سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے لیے اپنے مواقف پر ثابت قدم ہے : محمود عباس کی "العربیہ" سے گفتگو
ریاض مقبوضہ اراضی میں سیاسی یا آبادیاتی حقائق کی تبدیلی کو مسترد کرتا ہے
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام پر کسی اور مفاد کو ترجیح نہیں دے گا، کیونکہ وہ اپنے تمام مواقف میں فلسطین کے حق میں ثابت قدم ہے۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس کا کہنا تھا کہ ریاض کی تقاریر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فلسطینی مسئلہ اس کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اسرائیلی قابض حکام کے ہاتھوں فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کو بارہا مسترد اور شدید مذمت کرتا آیا ہے، جو بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس سے قبل ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا تھا کہ سعودی عرب مقبوضہ علاقوں میں سیاسی یا آبادیاتی حقیقت کو بدلنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے، اور وہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل کام کر رہا ہے۔
فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ اب تک تقریباً 149 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ محمود عباس کے مطابق انھیں متعدد ممالک کے وزرائے اعظم کی جانب سے فون آئے جن میں ان شخصیات نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
الرئيس الفلسطيني لـ العربية: السعودية متمسكة بكل مواقفها فيما يتعلق بفلسطين ولن تقدم أي مصلحة على تأسيس الدولة الفلسطينية#ساعة_حوار#قناة_العربية pic.twitter.com/ZfuPeeaDLW
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 1, 2025
علاوہ ازیں سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عالمی برادری میں اپنی کوششیں تیز کی ہیں۔ گزشتہ جولائی میں ریاض نے پیرس کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی قیادت کی، جس کا مقصد فلسطینی مسئلے کا حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد تھا۔ یہ سب مملکت کے فلسطینی مسئلے پر اٹل موقف اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے اس کی دیرینہ حمایت کا تسلسل ہے تاکہ ایسا منصفانہ اور جامع امن قائم ہو سکے جس سے 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر فلسطینی ریاست قائم ہو۔