فلسطین کے وسیع تر پیمانے پر اعتراف کا فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے کیا مطلب ہو گا؟

مغربی طاقتوں کا تسلیم کرنے کا اعلان لیکن امریکہ کا ویٹو راہ میں حائل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

بڑی یورپی طاقتوں نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتی ہیں۔ آئیے، جائزہ لیتے ہیں کہ اس اعتراف کا فلسطینیوں اور اسرائیل کے لیے کیا مطلب ہو گا؟

اس وقت فلسطینی ریاست کی حیثیت کیا ہے؟

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے 1988 میں فلسطینی ریاست کی آزادی کا اعلان کیا اور عالمی جنوب کے بیشتر ممالک نے اسے جلد ہی تسلیم کر لیا۔ آج اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں جن میں حالیہ اضافہ جنوری 2025 میں میکسیکو کا ہوا ہے۔

اسرائیل کا اہم اتحادی امریکہ طویل عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ بالآخر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک متفقہ "دو ریاستی حل" پر مذاکرات کے اختتام پر ہی ایسا کرے گا۔ حالیہ ہفتوں تک بڑی یورپی طاقتوں کا بھی یہی مؤقف تھا۔ اسرائیل اور فلسطینیوں نے 2014 کے بعد سے ایسے کوئی مذاکرات نہیں کیے ہیں۔

ریاست فلسطین کی باضابطہ نمائندگی کرنے والے ایک وفد کو اقوامِ متحدہ میں مستقل مبصر کا درجہ حاصل ہے لیکن اسے ووٹنگ کا حق نہیں ہے۔ خواہ کتنے ہی انفرادی ممالک فلسطین کی آزادی کو تسلیم کر لیں لیکن اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری درکار ہو گی جہاں واشنگٹن کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مشن سمیت تمام دنیا میں فلسطینی سفارتی مشنز پر فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول ہے جسے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی عوام کی نمائندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

صدر محمود عباس کی زیرِ قیادت پی اے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کے تحت اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے کے بعض حصوں میں محدود خود مختاری کا استعمال کرتی ہے۔ یہ فلسطینی پاسپورٹ جاری کرتی اور فلسطینی صحت اور تعلیم کا نظام چلاتی ہے۔

غزہ کی پٹی میں انتظامیہ 2007 سے حماس کے کنٹرول میں ہے جب اس نے عباس کی فتح تحریک کو نکال دیا تھا حالانکہ پی اے اب بھی کئی تنخواہوں کے لیے اعانت فراہم کرتی ہے۔

فلسطین کو تسلیم کرنے کا وعدہ کون اور کیوں کر رہا ہے؟

برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیئم نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔ اگرچہ لندن نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور ایک طویل مدتی امن عمل کا عہد کرے تو وہ اس سے دستبردار ہو سکتا ہے۔

ممالک نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد غزہ پر حملہ بند کرنے، مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے اور فلسطینیوں کے ساتھ امن عمل کی بحالی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے۔

فلسطین کو تسلیم کرنے والی ایک بڑی مغربی طاقت کے پہلے رہنما فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ یہ اقدام پی اے کی جانب سے اصلاحات نافذ کرنے کے عزم کے ساتھ ہو گا جس سے فلسطینی طرزِ حکمرانی میں بہتری آئے گی اور یہ بعد از جنگ انتظامیہ کے لیے ایک زیادہ قابلِ اعتماد شراکت دار بن سکے گی۔

تسلیم کرنے کا عملی طور پر کیا مطلب ہے؟

اعتراف کو وسیع پیمانے پر ایک علامتی اشارے کے طور پر دیکھنے والے چین، بھارت، روس اور کئی عرب ریاستوں جیسے ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہوں نے عشروں سے فلسطینی آزادی کو تسلیم کیا ہے۔ ان ممالک کا تنازعے پر اثر و رسوخ محدود اور زمینی موجودگی برائے نام ہے۔

اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت یا اپنی سرحدوں کے کنٹرول کے بغیر فلسطینی اتھارٹی کے پاس دو طرفہ تعلقات کے انتظام کی محدود صلاحیت ہے۔ فلسطینی سرزمین میں سفارت خانے کی حیثیت کے حامل کوئی مشن نہیں ہے اور ممالک آزادانہ طور پر وہاں سفارت کار نہیں بھیج سکتے ہیں۔

اسرائیل نے تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیمی یا ثقافتی تبادلوں تک رسائی محدود کر رکھی ہے۔ کوئی فلسطینی ایئرپورٹ نہیں ہیں۔ خشکی سے گھرے مغربی کنارے تک صرف اسرائیل یا اردن کے ساتھ اسرائیل کے زیرِ قبضہ سرحد کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے اور اسرائیل غزہ کی پٹی تک تمام رسائی کنٹرول کرتا ہے۔

اس کے باوجود شناخت کی منصوبہ بندی کرنے والے ممالک اور خود پی اے کا خیال ہے کہ یہ ایک خالی اشارتی علامت سے کہیں زیادہ دور رس ہو گا۔

اگرچہ تسلیم کرنے پر غور کرنے والے مغربی ممالک نے پی اے کو اضافی فنڈ فراہم کرنے کے واضح طور پر وعدے نہیں کیے ہیں لیکن برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زوملوٹ نے کہا ہے کہ تسلیم کرنے سے تزویری شراکت داری ہو سکتی ہے۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا، "ہم برابری کی بنیاد پر کھڑے ہوں گے۔ ماضی کی حماقت اور غلطیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے" ہر راستے کا تعاقب کیا جائے گا۔

یروشلم میں برطانیہ کے سابق قونصل جنرل ونسنٹ فین نے کہا، فلسطین کی آزادی کو تسلیم کرنے سے ممالک کو اسرائیل سے اپنے تعلقات کے پہلوؤں پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، برطانیہ کے معاملے میں اس کا نتیجہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادیوں کی مصنوعات پر پابندی جیسے اقدامات کی صورت میں نکل سکتا ہے اگرچہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایسے اقدامات کو "اس لحاظ سے محض علامتی سمجھا جائے کہ یہ اشیاء اسرائیلی معیشت کے مجموعی سائز میں ایک سوئی سے زیادہ نہیں ہیں۔"

اسرائیل اور امریکہ نے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟

حماس کے خلاف غزہ جنگ میں اپنے طرزِ عمل پر اسرائیل کو عالمی سطح پر غم و غصے کا سامنا ہے۔ اس کے نزدیک فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے اکتوبر 2023 کے حملوں کا انعام ہو گا۔

کئی عشروں کے بعد اسرائیل اب اپنی تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت چلا رہا ہے جس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جن کا خیال ہے کہ ان کا مشن فلسطینیوں کے لیے ریاست کا حصول ناممکن بنانا ہے۔ جبکہ قبل ازیں اسرائیل رسمی طور پر فلسطین کی آزادی پر ختم ہونے والے امن عمل کے لیے پرعزم تھا۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیل غزہ یا مغربی کنارے پر حتمی سکیورٹی کنٹرول کبھی نہیں چھوڑے گا۔

امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کے فلسطین کی آزادی کو تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ اس نے جواباً فلسطینی حکام پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن میں ویزوں سے انکار اور منسوخی بھی شامل ہے۔ ان کے باعث محمود عباس اور پی اے کی دیگر شخصیات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں