اسرائیلی وزیر دفاع کی غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
حماس کے دہشت گردوں کو آخری مہلت، ہتھیار ڈال دیں ورنہ پورے غزہ کو تباہ کردیا جائے گا:یسرائیل کاٹز
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بار پھر غزہ کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں جو اس وقت شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کاٹز نے کہا کہ "آج غزہ کے آسمان پر ایک بڑا طوفان چھا جائے گا اور دہشت گردی کے اڈے کہلانے والے ٹاورز ہل کر رہ جائیں گے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ حماس کے رہنماؤں اور جنگجوؤں کے لیے آخری انتباہ ہے، چاہے وہ غزہ میں ہوں یا بیرون ملک پرتعیش ہوٹلوں میں ہوں۔ قیدیوں کو رہا کرو اور ہتھیار ڈال دو، ورنہ غزہ اور تم سب تباہ ہو جاؤ گے"۔
היום תכה סופת הוריקן אדירה בשמי העיר עזה וגגות מגדלי הטרור ירעדו.
— ישראל כ”ץ Israel Katz (@Israel_katz) September 8, 2025
זאת אזהרה אחרונה למרצחי ואנסי החמאס בעזה ובמלונות הפאר בחו"ל: שחררו את החטופים והניחו את הנשק - או שעזה תיהרס ואתם תושמדו.
צה"ל ממשיך כמתוכנן - ונערך להרחבת התמרון להכרעת עזה.
کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج اپنی منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور غزہ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آپریشن کے دائرے کو وسعت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ دھمکیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے وزراء کو ہدایت دی کہ وہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں پر کوئی بیان نہ دیں۔
ادھر اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حماس کو "آخری وارننگ" دیتے ہوئے زور دیا کہ وہ تازہ ترین امریکی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کو قبول کرے۔
خیال رہے کہ حماس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب اعلان کیا کہ وہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ جنگ بند ہو اور اسرائیلی فوج تباہ حال غزہ سے انخلا کرے۔