سعودی عرب میں 25 فارم "سرخ سونا" پیدا کر رہے ہیں
"یہ ایک اقتصادی طور پر اُمید افزا فصل شمار ہوتی ہے
سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں اس وقت 25 سے زائد فارم ہیں جہاں دنیا کے مہنگے ترین مصالحوں میں شمار ہونے والا "زعفران" پیدا کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر اس کی پیداوار کو مارکیٹ میں اچھی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہارٹیکلچرل سائنسز نے بتائی۔
سعودی وزارتِ زراعت نے "زعفران" کی کاشت کو مقامی سطح پر رائج کرنے کے لیے تحقیقی کام تیز کر دیا ہے۔ ان تحقیقات سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ریاض، قصیم، تبوک (شمالی علاقہ) اور باحہ (جنوب مغربی حصہ) اس کی کاشت کے لیے موزوں علاقے ہیں۔ زعفران کو اس کی خوشبودار مہک اور کھانوں میں مختلف نوعیت کے استعمال کے سبب "سرخ سونا" کہا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل سوسائٹی فار ہارٹیکلچرل سائنسز کے رکن پروفیسر محمود شرف الدین کے مطابق سعودی عرب میں اس وقت 25 سے زیادہ زعفران کے فارم موجود ہیں، جن کی تعداد ہر علاقے میں ایک سے تین کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق مقامی منڈی میں فی گرام زعفران کی قیمت 15 سے 35 ریال تک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ "زعفران کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، اور زیادہ تر پیداوار آن لائن اسٹورز، عطاروں اور فوڈ اسٹورز کے ذریعے فروخت کی جاتی ہے۔"
شرف الدین کے مطابق وہ اس منصوبے کی کل لاگت نہیں بتا سکتے، کیونکہ یہ کئی عوامل پر منحصر ہے جیسے ماہر افرادی قوت کی دستیابی اور فارموں کی تعداد وغیرہ۔
سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار رسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آف سسٹین ایبل ایگریکلچر نے زعفران کی پیداوار کو مقامی بنانے اور بڑھانے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا ہے، جو قومی زرعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس حکمتِ عملی میں قدرتی وسائل کی پائیدار حفاظت اور زرعی تحقیقی کام کو فروغ دینا شامل ہے۔
یہ منصوبہ چار مرکزی علاقوں (ریاض، قصیم، تبوک اور باحہ) میں زعفران کی پیداوار پر توجہ دے رہا ہے۔ اس میں زراعت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق شامل ہے، جیسے کاشت کے بہترین اوقات کا تعین، مناسب کھادوں کا انتخاب، پودوں کی کثافت، گہرائی، آبپاشی کے پانی اور مٹی کی کھاراپن کا اثر اور ہائیڈروپونک و عمودی کھیتی میں غذائی محلول کا استعمال۔
زعفران کو سعودی عرب میں ایک پر کشش اور منافع بخش فصل قرار دیا جا رہا ہے، اور مملکت اس کی پیداوار کو کئی گنا بڑھانے کی خواہاں ہے۔ البتہ ماہرین کے مطابق اس کی کامیاب کاشت کے لیے مزید سائنسی تحقیقات اور مطالعے ضروری ہیں تاکہ اسے ملکی زرعی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔