نیتن یاہو محاسبے کے بغیر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی جاری نہیں رکھ سکیں گے : قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قطرکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی جاری نہیں رکھ سکیں گے اور انھیں اس کا حساب دینا ہو گا"۔ یہ بیان اسرائیل کی حالیہ فوجی جارحیت کے پس منظر میں سامنے آیا۔

وزارت کے ترجمان نے کہا کہ غزہ سے متعلق مذاکرات "فی الحال حقیقت پسندانہ نظر نہیں آتے"۔ انھوں نے زور دیا کہ گزشتہ ہفتے دوحہ میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے نے قطر اور امریکا کے درمیان دفاعی معاہدے کی تجدید کی ضرورت کو تیز کر دیا ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ قطر کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات "تزویراتی اور خصوصی نوعیت کے ہیں بالخصوص دفاعی سطح پر"۔ انھوں نے بتایا کہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کی۔ روبیو قطر کے دورے پر دوحہ میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز قطر میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو فضائی حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا گیا۔

اس حملے نے خطے اور دنیا بھر میں سخت ردِ عمل جنم دیا اور امن کوششوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے انتباہات سامنے آئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں اس حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور نیتن یاہو نے انھیں دوحہ کو نشانہ بنانے کے فیصلے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ بعد ازاں نیتن یاہو کے دفتر نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی "بالکل آزادانہ طور پر کی گئی تھی اور اس میں کوئی بیرونی ہم آہنگی شامل نہیں تھی"۔

یہ پیش رفت خاص طور پر حساس ہے کیونکہ قطر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات کا مرکزی ثالث ہے، اور ساتھ ہی امریکا کا قریبی اتحادی بھی سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں