اسرائیل ہرگز قطر پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا : ٹرمپ
امریکی صدر نے اس بات کی تردید کی کہ نیتن یاہو نے دوحہ پر حملے سے قبل انھیں آگاہ کر دیا تھا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر باور کرایا ہے کہ اسرائیل ہر گز قطر پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔
پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حملے سے قبل انھیں دوحہ پر ہونے والے حملے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
ترمب: قطر حليف هام ونتنياهو لن يضربها مجددًا.. واستخدام حماس الرهائن كدروع بشرية "أمر فظيع"#العربية pic.twitter.com/wuhosI0Viq
— العربية (@AlArabiya) September 16, 2025
نیتن یاہو کے دفتر نے پیر کو "ایکس" پر جاری بیان میں کہا تھا کہ دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا مکمل طور پر "آزاد اسرائیلی کارروائی" تھی۔
امریکی ویب سائٹ "axios" نے پیر کو انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے حملے سے قبل ٹرمپ کو بتایا تھا کہ اسرائیل قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے زور دے کر کہا کہ اسے اس حملے کی اطلاع صرف میزائل داغے جانے کے بعد ملی، جس کی وجہ سے ٹرمپ کو اس پر اعتراض کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔
لیکن "ایکسيوس" ویب سائٹ نے سات اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع تھی اور اگرچہ اطلاع دیر سے دی گئی لیکن اس میں حملہ منسوخ کرنے یا اس پر اعتراض کرنے کے لیے کافی وقت موجود تھا۔
ٹرمپ نے حملے کی شام کہا کہ انھیں دوحہ پر اسرائیلی حملے کے منصوبے کا علم نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس حملے سے مطمئن نہیں ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ قطر واشنگٹن کا ایک بڑا اتحادی ہے۔
امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج نے فضا میں اسرائیلی طیارے دیکھے اور اسرائیل سے وضاحت طلب کی، لیکن وضاحت اس وقت ملی جب بیلسٹک میزائل پہلے ہی دوحہ میں حماس کمپاؤنڈ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔