غزہ کو تباہ کر کے اسے حماس کے قبرستان کا گواہ بنا دیں گے : اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیل نے غزہ میں بھرپور فوجی آپریشن شروع کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ پر اسرائیل کی کارروائی میں تیزی اور شہر سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے درمیان بین الاقوامی تنقید کے باوجود اسرائیلی حکام نے حملے کی شدت بڑھا دی ہے۔

وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ "فوج غزہ کو تباہ کر دے گی" اور یہ حماس کے قبرستان کا گواہ بنے گا۔ اسرائیلی وزیر کے مطابق اگر حماس نے تمام قیدی آزاد نہ کیے اور اپنے ہتھیار نہیں ڈالے تو فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کی شدت جتنی بڑھے گی حماس کی فوری شکست اور قیدیوں کی رہائی کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ انھوں نے فورسز کو "تمام وسائل پوری قوت سے استعمال کرنے" اور ساتھ ہی فوجی جوانوں کی حفاظت کو اولین ترجیح رکھنے کا حکم دیا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے جنوبی کمانڈ اور فیلڈ کمانڈروں کے ساتھ غزہ کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ "آپ کی ذمہ داری حماس کو شدید نقصان پہنچانا اور "غزہ شہر بریگیڈ" کو شکست دینا ہے تاکہ دو سب سے اہم کام ممکن ہو سکیں ... یعنی قیدیوں کی واپسی اور حماس کی عسکری و حکومتی صلاحیتوں کا خاتمہ"۔ زامیر نے جنگی کارروائیوں کی ضابطہ بندی اور منظم نفاذ پر زور دیا۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ غزہ شہر میں زمینی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ شہر میں حماس کے تقریباً تین ہزار جنگجو موجود ہیں اور زمینی فورسز شہر کے اندر گہرائی تک پیش قدمی کر رہی ہیں۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا کہ "ہم نے غزہ میں ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی ہے"۔

اس دوران فلسطینی شہری جنوب کی جانب ہجرت کر رہے ہیں، حالانکہ محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں