اسرائیل سے امریکی ثالثی میں معاہدہ جلد متوقع ہے: شامی صدر
تل ابیب سے معاہدے کا مطلب اسرائیل کے ساتھ ’نارملائزیشن‘ نہیں: احمد الشرع
شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی بات چیت آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی 1974ء کے معاہدے کی طرز پر ایک نیا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ شام تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہا ہے۔
ترکیہ کے اخبار "مللیت" کو دیے گئے انٹرویو میں جسے "ٹیلی وژن سوریا" نے جمعے کو نشر کیا الشرع نے کہا کہ شام جانتا ہے کہ جنگ کیسے لڑی جاتی ہے لیکن اب وہ جنگ نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ السویداء میں حالیہ واقعات "ایک منظم جال" تھے۔ السویداء میں کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اپنے اختتام کے قریب پہنچ گئے تھے۔
انہوں نے اسرائیل پر اعتماد کے سوال کے جواب میں کہاکہ"اگر پوچھا جائے کہ کیا میں اسرائیل پر بھروسہ کرسکتا ہوں؟ تو میرا جواب ہے" ہرگز نہیں"۔
اعلانِ جنگ
الشرع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے شامی صدارتی محل اور وزارت دفاع کو نشانہ بنانا جنگ کا اعلان ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدہ ناگزیر ہے، البتہ اسرائیل کے اس پر عملدرآمد پر شبہ موجود ہے۔
شامی صدر نے بتایا کہ ان کی متوقع شرکت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تاریخی موقع ہو گی کیونکہ ساٹھ برس بعد پہلی بار کوئی شامی صدر ان اجلاسوں میں شریک ہو رہا ہے۔ ان کے بقول "یہ شام کے لیے ایک نیا موڑ ہے۔ شام اب نہ تو منشیات، نہ پناہ گزین اور نہ ہی دہشت گردی برآمد کرنے والا ملک ہے بلکہ عالمی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔"
90 فیصد منشیات کی تجارت ختم، دس لاکھ مہاجرین کی واپسی
الشرع نے کہا کہ شام میں 90 فیصد منشیات کی تجارت رک چکی ہے اور دس لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین اپنے وطن واپس آ گئے ہیں، اگرچہ تعمیر نو کا عمل تاحال شروع نہیں ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر رواں برس کے اختتام تک شامی کرد فورس "قسد" کے انضمام کا عمل ناکام رہا تو ترکیہ فوجی اقدام کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق "قسد" اور کردستان ورکرز پارٹی کے بعض دھڑے معاہدوں کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
الشرع نے "قسد" کی غیرمرکزی نظام سے متعلق مطالبات مسترد کر دیے اور کہا کہ شام کا قانون نمبر 107 پہلے ہی 90 فیصد اختیارات مقامی انتظامیہ کو دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مطالبات دراصل "علیحدگی پسندی کی کوشش" ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مظلوم عبدي سے پہلی ملاقات میں انہیں کہاکہ "اگر تم صرف کردوں کے حقوق کے لیے آئے ہو تو اس کی ضرورت نہیں۔ میرا اصول ہے کہ کرد شام کے برابر کے شہری ہیں اور میں ان کے حقوق کی حفاظت تم سے زیادہ کروں گا"۔
الشرع نے واضح کیا کہ 10 مارچ کا معاہدہ پہلی بار امریکہ اور ترکیہ کی حمایت یافتہ حل کی راہ ہموار کر رہا تھا لیکن "قسد" اور پی کے کے کے کچھ دھڑوں نے جان بوجھ کر اسے ناکام بنایا۔ ان کے مطابق "قسد"، جس نے عبداللہ اوگلان کی تحلیل کی اپیل کو بھی نظرانداز کیا، اب ترکیہ اور عراق کی قومی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ انقرہ نے شام کی درخواست پر پہلے فوجی کارروائی سے اجتناب کیا، لیکن اگر انضمام کا عمل ناکام رہا تو سال کے اختتام تک ترکیہ کا صبر جواب دے سکتا ہے۔