غزہ کے الشفا ہسپتال کے ڈاکٹر حمد ابو سلمیہ غزہ میں جاری بمباری کا نشانہ بنائے گئے فلسطینیوں کو ایمرجنسی وارڈ میں ہر روز کے معمول کے مطابق دیکھ رہے تھے۔ تاکہ اس خوفناک جنگی جارحیت میں زخمی اور جاں بلب پہنچنے والوں کو ہر ممکن توجہ اور علاج دے سکیں کہ اچانک ان کے سامنے ایمرجنسی وارڈ میں ان کے بھائی اور بھاوج کی لاشیں لائی گئیں۔ جنہیں اچانک اپنے سامنے لہو لہان پا کر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ سخت صدمے سے دوچار ہو گئے۔
یاد رہے اس طرح کے واقعات اس سے پہلے بھی غزہ کے ہسپتالوں میں سامنے آچکے ہیں کہ اسرائیلی بمباری سے زخمی ہو کر پہنچنے والے زخمیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ڈاکٹروں کو اچانک سامنے موجود زخمیوں میں اپنے ہی بہن بھائیوں یا والدین کو بھی شہید یا زخمی حالت میں دیکھنا پڑ جاتا ہے۔
جنہیں بمباری کے ماحول میں وہ اس لیے چھوڑ کر ہسپتال میں کئی کئی دنوں اور ہفتوں کے بغیر آرام اور چھٹی کے ڈیوٹی کرتے ہیں کہ اپنی قوم کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن اس دوران ان کے اپنے بچے اور اہل خانہ بھی بمباری کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
ایسے ہی ایک واقعے میں غزہ کے فلسطینی ڈاکٹر کی ہسپتال میں موجودگی میں اپنی والدہ کی لاش کو دیکھنا پڑا۔ جب وہ ایک لاش جس کو کپڑے سے ڈھانپ کر ایک سٹریچر پر لایا گیا تھا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر لاش کی حالت دیکھنے گئے تو کپڑا اٹھاتے ہی اپنی شہید ماں کو سامنے دیکھ لیا۔
ڈاکٹر ابو سلمیہ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کو اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کا بتایا کہ ان کے سامنے ایمرجنسی وارڈ میں اچانک ان کے بھائی اور بھاوج کی لاش پہنچ گئی۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے اس بارے میں کچھ نہ جانتے تھے کہ وہ کسی بمباری میں زخمی ہوئی ہیں یا انہیں ہسپتال لایا جارہا ہے۔
ڈاکٹر ابو سلمیہ نے کہا ' ہم فلسطینی جس صورت حال سے گزر رہے ہیں کسی بھی وقت ہمارے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے عزیز ترین لوگ زخمی ہو کر آ سکتے ہیں یا ان کی لاشیں ہم ڈاکٹروں کو دیکھنا پڑ سکتی ہیں۔ کیونکہ قبضے کے جرائم مسلسل جاری ہیں اور ہر روز شہدا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے اسرائیلی ریاست نے غزہ میں جاری اپنی جنگ کے دوران اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کرا چکی ہے۔ جبکہ 700 سے زائد فلسطینی ڈاکٹر اور طبی عملے ارکان بھی شہید کیے جا چکے ہیں۔
غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق تازہ ترین اسرائیلی بمباری کے دوران مزید 87 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں 70 فلسطینی صرف غزہ شہر میں قتل کیے گئے ہیں تاکہ غزہ شہر میں ایسا خوفناک ماحول بنا دیا جائے کہ کوئی بھی غزہ شہر میں رہنے پر اصرار نہ کر سکے۔ بلکہ جبری انخلا کا اسرائیلی منصوبہ آگے بڑھایا جاسکے۔
شہری دفاع کے ادارے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے تازہ بمباری سے شہر کے الصابرہ محلے میں دغمش خاندان کے گھروں کو نشانہ بنایا۔ جس میں اس خاندان کے 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔
ادھر الشفاء ہسپتال نے بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ شہر سے 34 فلسطینیوں کی لاشیں پہنچی ہیں۔ جبکہ بیپٹسٹ ہسپتال کے حکام ک مطابق ان کے ہسپتال میں 28 لاشیں لائی گئی ہیں۔
اسرائیلی ریاست کی فوج نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر محمر ابو سلمیہ کا بھائی ماجد سلمیہ حماس کا اہلکار تھا۔ اسے فوجیوں پر گولی چلاتے ہوئے قتل کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ماجد سلمیہ کے قتل کا ذکر نہیں کیا کہ وہ اس دوران کیسے بمباری کا نشانہ بنادیے گئے۔ اسرائیلی فوج نے ایک الگ سے بیان بھی جاری کیا ہے۔ جس میں ماجد سلمیہ کو القسام سے وابستہ بتایا ہے۔
فوجی بیان کے مطابق ابو سلمیہ ایک سنائپر کے طور پر کام کرتا تھا اور غزہ سٹی کے علاقے میں اسرائیلی فوج کے فوجیوں کے خلاف دہشت گردانہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
تاہم ماجد سلمیہ کے ڈاکٹر بھائی ابو سلمیہ نے اسرائیلی الزام کو جھوٹ، بہتان اور عام شہریوں کو براہ راست میزائل حملوں سے نشانہ بنانے کا ناقابل قبول جواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا میرا شہید کیے گئے بھائی کی عمر 57 سال ہو چکی تھی۔ وہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ حتیٰ کہ ان کی بینائی بھی سخت متاثر ہو چکی تھی۔ لیکن اسرائیلی فوج انہیں سنائپر ثابت کرنے کے جھوٹے دعوے کرر ہی ہے۔ اس سے بڑا اور خالص جھوٹ نہیں ہو سکتا جو اسرائیلی فوج بول رہی ہے۔
ڈاکٹر ابو سلمیہ نے' اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا ' ان کا بھائی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غزہ جنگ کے دوران کئی مرتبہ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے اور بے گھر ہو چکے تھے۔ لیکن بے گھر ہو کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ شہید ہونے والے میرے بھائی اکیلے فلسطینی نہیں جو شہید کیے گئے۔ اب تو تعداد ہزاروں میں ہے اور ہر روز ان شہداء کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ سب ہمارے ہی بہن بھائی اور بچے ہیں جن کی لاشیں ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔'
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' سے وابستہ ایک صحافی نے ہفتے کے اوائل میں ہسپتال کے احاطے میں ایمبولینسوں کو آتے ہوئے دیکھا جن میں بمباری سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں تھیں۔
ڈاکٹروں نے سفید کپڑوں میں لپٹی چار لاشوں کو اتار کر ایک درخت کے نیچے رکھ دیا۔ ان لاشوں میں بچے کی لاش بھی تھی۔
اسرائیلی فوج کی بد ترین جنگی جارحیت کے اس جاری مرحلے میں لاکھوں فلسطینی شہری غزہ شہر سے انخلا پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لیکن ابھی لاکھوں ہی یہاں موجود ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو بار بار نقل مکانی کر کے اب تھک گئے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں ان کے پاس نقل مکانی کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں۔
غزہ شہر کے تال الحوا کے علاقے کے 38 سالہ محمد نصر نے اپنے آس پاس کے لوگوں کو یکے بعد دیگرے شہر چھوڑتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ کہتے ہیں اس وقت شہر کے لوگوں پر صرف موت مہربان ہے۔
لوگ خاندانوں کے ساتھ اپنا سامان ٹرکوں، کاروں، گدھا گاڑیوں پر یا پھر اپنے کندھوں پر رکھ کر نکل رہے ہیں۔اس بے بسی میں تھک کر چور ہوگئے ناصر نامی فلسطینی نے کہا میرے پاس تین بیٹیوں کی دیکھ بھال کرنے یا انہیں لے کر نقل مکانی کرنے کے وسائل بالکل نہیں ہیں۔ اس لیے میں یہاں پھنس کے رہ گیا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا جہاں تک میرا، میری بیوی اور میری تین بیٹیوں کا تعلق ہے، ہم آخری لمحے تک پرامید رہ کر حالات کی بہتری کا انتظار کریں گے۔ مگر قبضہ سب کو ان کے گھروں سے بے گھر کرنے پر تلا ہوا ہے۔ تاکہ غزہ شہر کو بھی بیت حنون یا دوسرے رفح کی طرح ملبے کا ڈھیر کردے۔ قبضہ نہیں چاہتا غزہ اگلے سو سال تک فلسطینیوں کے لیے رہنے کی جگہ قرار پائے۔ اسے صرف زمین چاہیے۔ وہ زمین چھین رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ شہر پر مسلسل فضائی حملوں اور ٹینکوں سے گولہ باری کے ذریعے بدترین انداز میں تباہ کر دیا ہے۔ تاکہ کسی مکان کی چھت رہے نہ دیوار اور کوئی فلسطینی اس میں پناہ گزین کے طور پر بھی نہ رہ سکے۔ غزہ شہر فلسطینیوں سے مکمل صاف ہو جائے۔
اسرائیلی ریاست جو خود کو دنیا کے مظلوم ترین یہودیوں کی نمائندہ بنا کے پیش کرتی ہے۔ وہ پوری بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں سب کی رائے کو نظر انداز کر رہی ہے اور اس کے باوجود جنگ بندی پر تیار ہے نہ فلسطینیوں کے لیے پانی، خوراک اور ادویات و ایندھن کی ترسیل کھولنے کو تیار ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے غزہ میں قحط کی پچھلے کئی ماہ سے نشاندہی کر رہے ہیں اور سینکڑوں لوگ بچوں سمیت اس قحط سے مر چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے منگل کو اپنا زمینی حملہ شروع کیا اور رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کو کہا لیکن بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ سفر انتہائی مہنگا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ کہاں جانا ہے۔ فرار ہونے والے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں فوج کے بتائے گئے جنوبی علاقوں تک پہنچنے میں 12 گھنٹے سے زیادہ وقت لگاہے۔ حتیٰ کہ انخلا کے لیے تیس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے ڈیڑھ سے دو ہزار ڈالر کے اخراجات درکار ہیں۔
اقوام متحدہ نے اگست کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ غزہ شہر اور اس کے گردونواح میں تقریباً دس لاکھ لوگ رہ رہے ہیں۔
رعدہ الامارین نے بے بسی کے حوالے سے کہا وہ دھماکوں کی آواز سے صبح ہونے سے پہلے بیدار ہوجاتی ہیں۔ ہم انخلا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ہمارے پاس روٹی خریدنے کے لیے 10 شیکل بھی نہیں ہیں۔ اب ہمارے پاس یہی راستہ ہے کہ اسی علاقے میں مریں یا پھر المواصی میں جا کر مرنے کی تیاری کریں۔ اسرائیلی فوج المواصی کیمپ پر بھی اس کے باوجود کئی بار بمباری کر چکی ہے۔ اگرچہ المواصی کو اس نے ہیومینیٹرین ایریا قرار دے رکھا ہے۔
-
غزہ کے بچے بھوک اور پیاس سے بدحال، اسرائیلی بمباری میں مزید 51 فلسطینی جاں بحق
تین اسرائیلی ٹیمیں ایک ساتھ غزہ پر حملہ آور، یہ میری زندگی کا بدترین منظر ہے: ...
مشرق وسطی -
سیٹلائٹ تصاویر میں غزہ کی تباہی کے ہولناک مناظر سامنے آگئے
اسرائیلی بمباری اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کا سلسلہ جاری
بين الاقوامى -
شمالی غزہ سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسرائیل پر راکٹ حملے باعث تشویش
العربیہ اور الحدث کے جنگی وقائع نگاروں کے مراسلوں کے مطابق اتوار کو شمالی غزہ سے ...
مشرق وسطی