شمالی غزہ سے فلسطینی مزاحمت کاروں کے اسرائیل پر راکٹ حملے باعث تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

العربیہ اور الحدث کے جنگی وقائع نگاروں کے مراسلوں کے مطابق اتوار کو شمالی غزہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے، جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے باشندوں پر انتباہی اعلانات کی پرچیاں گرانے اور انہیں جنوب کی طرف منتقل ہونے کی ہدایات دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق "اشدود اور غزہ کے ارد گرد کی بستیوں" میں سائرن بج اٹھے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے میزائل شکن ایئر ڈیفنس (آئرن ڈوم) نے اشدود کی طرف داغے گئے دو راکٹوں کو روک لیا، اسرائیلی چینل 12 نےبھی اس کو رپورٹ کیا ہے۔

بعد ازاں اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادراعی نے ایک مختصر بیان میں اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج نے فلسطینی علاقے کے شمال سے داغے گئے دو راکٹوں کا پتا لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ائر فورس نے ایک راکٹ کو روک لیا، جبکہ دوسرا کھلے علاقے میں گرا، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سب سے بڑا چیلنج

تاہم اسرائیل کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب بھی غزہ شہر کے اندر ہی ہے، جہاں تقریباً تاحال چھ لاکھ افراد شدید بمباری، اعلانات اور عمارتوں کی تباہی کے باوجو شہر سے نہیں نکلے۔

غزہ سے جبری انخلا[رائیٹرز]
غزہ سے جبری انخلا[رائیٹرز]

العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق، حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے تقریباً پانچ ہزار جنگجو شہر میں موجود ہیں جبکہ اسلامی جہاد کے لگ بھگ ڈھائی ہزار جنگجو ان کے علاوہ اسرائیلی فوج کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔

العربیہ کی اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو خدشہ ہے کہ غزہ شہر میں گذشتہ ہفتے داخل ہونے والی افواج کو جھڑپوں کے دوران 70 سے 100 فوجیوں تک جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

انیس لاکھ افراد جبراً بے گھر

اسی دوران، اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً انیس لاکھ افراد جبراً بے گھر ہو چکے ہیں۔ انروا نے اتوار کے روز اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ "ہم گذشتہ دو سال سے غزہ میں جنگ بندی کی اپیل کر رہے ہیں… مگر یہاں تباہی اور انسانی المیہ ناقابلِ تصور حد تک بڑھ چکا ہے۔"

انروا نے مزید بتایا کہ دسیوں ہزار افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ایجنسی نے "یومِ امن" کے موقع پر ایک بار پھر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

16 ستمبر سے اسرائیل نے بین الاقوامی اور اقوامِ متحدہ کی وارننگز کے باوجود غزہ شہر پر زمینی حملہ شروع کر رکھا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ غزہ شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور اسے "حماس کی قبر کا کتبہ" بنا دیا جائے گا۔

ادھر فوجی کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر قبضے اور اس کی مکمل تلاشی کی کارروائی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ شہر میں موجود باقی ماندہ قیدیوں کی زندگی کے حوالے سے اسرائیلی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں