سعودی عرب کے شمال میں جزیرہ نما عرب کی قدیم ترین انسانی بستی دریافت
اس کی تاریخ موجودہ زمانے سے تقریبا 11 ہزار سال پہلے کی ہے
سعودی ورثہ کمیشن نے آج جزیرہ نما عرب میں دریافت ہونے والی قدیم ترین معروف انسانی بستی کا انکشاف کیا ہے۔ اس بستی کا تعلق پتھروں کے جدید دور سے ہے۔ یہ بستی تبوک کے شمال مغرب میں واقع علاقے مصیون میں دریافت ہوئی۔
یہ تفصیلات سعودی ورثہ کمیشن اور جاپان کی کنازاوا یونیورسٹی کے درمیان ہونے والے مشترکہ آثارِ قدیمہ کے سروے اور کھدائی کے کام کے دوران سامنے آئیں، جس میں نیوم کی انتظامیہ نے بھی تعاون کیا۔ اس بستی کا زمانہ پتھروں کے جدید عہد کے ابتدائی دور سے جڑا ہے یعنی آج سے تقریباً 10300 سے 11000 برس پہلے کا زمانہ.
اكتشف زملائي في @MOCHeritage بالتعاون مع الأصدقاء من 🇯🇵 في مصيون شمال غرب تبوك أقدم مستوطنة بشرية معمارية معروفة في الجزيرة العربية يعود تاريخها إلى العصر الحجري الحديث. #رؤية_السعودية_2030 pic.twitter.com/AMgaPXM6mR
— بدر بن عبدالله بن فرحان آل سعود (@BadrFAlSaud) September 25, 2025
اس قدیم بستی میں نمایاں طور پر کئی اہم نوادرات دریافت ہوئی ہیں، جن میں تراشی ہوئی اشیا، پتھر کے چکی نما اوزار، خام مال کی باقیات کی بڑی مقدار، سنگِ مرمر سے بنی زیب و زینت کی اشیا، انسانی اور حیوانی ہڈیاں (جن سے دورِ زمانی کا تعین کیا گیا) اور مختلف اقسام کے پتھریلے اوزار شامل ہیں جو زیورات بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
-
سعودی عرب کے قومی دن پر مملکت کے رنگا رنگ روایتی پہناوں کی جھلک
سعودی عرب کے قومی دن کے قریب آتے ہی جشن کی سرگرمیاں صرف سرکاری تقاریب اور خوشیوں ...
مشرق وسطی -
پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور ایک غیر فوجی دفاعی محاذ کی ضرورت
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ دفاعی معاہدہ ایک بڑی پیش رفت بلکہ تبدیلی ...
سیاست -
سعودی عرب کی دنیا کے تمام ممالک سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل
فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عالمی فیصلوں کے پس منظر میں سعودی عرب ...
مشرق وسطی