سعودی عرب کا عالمی برادری سے دو ریاستی حل پر عمل درآمد کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی مسئلے کے دو ریاستی حل کی ذمہ داری پوری کرے۔ مملکت نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے ایک واضح عملی راستہ وضع کیا جا چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی تنازعے کا پائیدار حل تلاش کیا جائے۔

وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایران کی جانب سے قطر پر حملے اور اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی، جس میں رواں ماہ کے آغاز پر چھ افراد جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے اسرائیلی حملے کو کھلی جارحیت اور غیر قانونی اقدام قرار دیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ 150 سے زائد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کے "اعلان نیویارک" کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقی متبادل ہے جو بار بار کے تشدد اور جنگوں کے دائرے سے نکلنے کا راستہ فراہم کرتا ہے، اعلان یہ بھی واضح کرتا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارہ ایک ہی فلسطینی سرزمین ہے اور کسی جبری ہجرت یا اسرائیلی قبضے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی حملے

وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کھلا "قحط " ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نہتے شہریوں کو منظم انداز میں قتل کر رہا ہے اور فلسطین میں وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق صرف ہفتے کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 67 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ شہر کے کئی علاقوں میں اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں اور بھاری گولہ باری نے عام شہریوں کی آمد و رفت ناممکن بنا دی ہے۔

ایران کا ایٹمی پروگرام

سعودی عرب نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا واحد راستہ سفارتی ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ مملکت نے ایران اور ایجنسی کے درمیان حالیہ تعاون کے معاہدے کا خیر مقدم کیا، جو مصر کی سرپرستی میں ہوا ہے۔

شام، لبنان اور خطے کا امن

سعودی عرب نے شام میں سکیورٹی کے قیام کے اقدامات کو سراہا اور امریکہ کی جانب سے دمشق پر عائد پابندیاں اٹھانے کا خیر مقدم کیا۔ ساتھ ہی اسرائیلی حملوں کی مذمت بھی کی۔

لبنان کے بارے میں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مملکت لبنان کی سلامتی اور استحکام کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے پر زور دیتی ہے۔

یمن، سوڈان اور دیگر مسائل

شہزادہ فیصل بن فرحان نے بحیرہ احمر میں بحری آمد و رفت کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب یمن کے مسئلے کا ایک جامع سیاسی حل چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوڈان کے بحران کا حل صرف "سوڈانیوں کے درمیان" ہونا چاہیے تاکہ ملک کی خودمختاری اور وحدت قائم رہے۔

روس اور یوکرین کی جنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مذاکرات کے ذریعے ایک پرامن حل چاہتا ہے اور اس کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اسی طرح بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے آغاز پر سعودی عرب نے خوشی کا اظہار کیا۔

سعودی ویژن 2030 کی کامیابیاں

وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ سعودی وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2024ء کے اختتام تک ویژن کے 93 فیصد اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، بے روزگاری کی شرح 2016 ءکے 12 فیصد سے کم ہو کر 6.3 فیصد رہ گئی ہے، خواتین کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت 36 فیصد سے بڑھ گئی ہے اور غیر تیل کی معیشت کی شرح نمو ملکی جی ڈی پی کا 56 فیصد ہو گئی ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب تعاون، مکالمے اور مشترکہ عالمی کوششوں پر یقین رکھتا ہے تاکہ دنیا کو زیادہ مستحکم اور خوشحال بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں