اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ دو ریاستی حل میں فلسطینی اتھارٹی کا کیا کردار ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ دو ریاستی حل میں نظر آنے والی وقت کی تحدید اور ایسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جنہیں واپس نہیں لیا جا سکتا۔ تاکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے بامعنی پیش رفت ہو سکے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اس میں فلسطینی اتھارٹی کا کردار کیا تجویز کیا گیا ہے۔

سات صفحات پر مبنی یہ منصوبہ ماہ جولائی میں سعودی عرب اور فرانس کے اشتراک سے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے۔ جو اقوام متحدہ کے ارکان نے ایک حل کے طور پر پیش کیا ہے اور اقوام متحدہ نے اس کی حمایت کی۔ تاہم امریکہ و اسرائیل نے سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی حمایت سے لیے گئے انیشی ایٹو کو نہیں لگتا کہ پیر کے روز صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنی ملاقات میں ڈسکس کیا ہوگا۔ اس کے بجائے ان دونوں رہنماؤں کے سامنے صدر ٹرمپ کا وہ 21 نکاتی امن منصوبہ تھا جو انہوں نے پچھلے ہفتے عرب و مسلم دنیا کے سربراہوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ تاکہ تقریباً دو سال سے جاری غزہ جنگ کو روکا جا سکے اور باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہائی مل سکے جو مسلسل حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی قید میں ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کو والہانہ انداز میں اختیار کیا اور دو ریاستی حل کی تائید کی۔ یہ قرارداد 12 ستمبر کو منظور کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 142 ارکان کے ووٹ کا استعمال کیا۔ جبکہ صرف 10 ملکوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا اور 12 ممالک نے اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کیا۔

اس منصوبے کو اقوام متحدہ نے پوری طرح حمایت دی 'کہ غزہ میں جنگ کو لازماً اب ختم ہونا چاہیے'۔

نیز قرارداد میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی کوششوں کی حمایت کی گئی۔

فلسطینی اتھارٹی کا دو ریاستی حل میں ممکنہ کردار

غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک عبوری انتظامی کمیٹی فوری طور پر قائم کی جائے گی۔ جو فلسطینی اتھارٹی کی چھتری کے نیچے کام کرے گی۔

یہ قرارداد اس امر کی بھی حمایت کرتی ہے کہ غزہ میں عارضی بین الاقوامی استحکام کی کوششوں کے سلسلے میں مشن تعینات کیے جائیں۔ جو فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں دعوت پر آئیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان کی حمایت کرتی ہو۔ یوں اس سلامتی مشن کو علاقائی و بین الاقوامی حمایت حاصل ہو جائے گی۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلامتی کے مقاصد کے لیے آنے والا یہ بین الاقوامی مشن ایسی چیزوں کو اختیار کرے گا جو فلسطینیوں کی شہری آبادی کا تحفظ کرنے والی ہوگی۔ یہ مشن فلسطین کی اندرونی سلامتی کے لیے ذمہ داریاں فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرنے کی حمایت کرے گا۔

نیز یہ کہ فلسطینی اتھارٹی کی سلامتی کے لیے استعداد کو بڑھانے کا کام کرے گا اور اس کی سیکیورٹی فورسز کی بھی مدد کرے گا۔ یہ بیک وقت اسرائیل اور فلسطینیوں کی ریاست کو حفاظت کی ضمانت دے گا۔

یہ مشن جنگ بندی سے متعلق امور کی نگرانی کرے گا اور مستقبل کے لیے امن معاہدہ کی بھی نگرانی کرے گا۔ اس امر کا اہتمام کرتے ہوئے کہ دونوں ریاستوں کی اقتدار اعلیٰ کا احترام موجود رہے۔

یہ منصوبہ اس امر کی بھی توثیق کرتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحات کے ایجنڈے پر کام جاری رکھے جو بین الاقوامی حمایت سے اس نے شروع کر رکھا ہے۔ خصوصا یورپی یونین اور عرب لیگ کی توجہات اس امر پر مرکوز ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی گڈ گورننس کو اپنا شعار بنائے۔ فلسطینی اتھارٹی میں شفافیت آئے۔ مالی استحکام پیدا ہو، اشتعال و نفرت پر مبنی تقریروں کے خلاف نبردآزما ہونے کی صلاحیت ہو اور کاروباری ماحول کو ترقی ملے۔

اس قرارداد میں اس امر کا بھی خیر مقدم کیا گیا ہے کہ محمود عباس کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی جمہوری اور شفاف صدارتی انتخاب کا اہتمام کرے اور یہ اہتمام پورے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ہو۔ بشمول مشرقی یروشلم اور یہ صدارتی انتخاب ایک سال کے اندر اندر ہو۔

یہ صدارتی انتخابات بین الاقومی جمہوری خواہشوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تاکہ فلسطینی امیدواروں کے درمیان ایک جمہوری مقابلے کی فضا بن سکے اور پی ایل او کے لیے احترام کو بڑھاوا مل سکے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں نئی نسل کو اپنے نمائندے چننے کا موقع ملے گا۔ اور وہ اپنی اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی کی دعوت پر یورپی یونین انتخابی امور میں اپنی مدد جاری رکھے گی۔

اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ اس منصوبے میں اس امر کا بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے سیاسی و معاشی حمایت متحرک رہے گی۔ فلسطینی اتھارٹی اپنی اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوئے اداروں کو مضبوط کرنے کی اپنی استعداد بڑھائے گی۔ اصلاحاتی ایجنڈا زیر عمل آئے گا اور پورے فلسطین میں ذمہ دارانہ کردار کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔

قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ملک فلسطینی ریاست کے قیام اور دیگر ضرورتوں کے لیے مالی مدد کریں اور جتنا جلدی ممکن ہو بین الاقوامی ڈونرز کی کانفرنس بلائی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں