"تھک کر چُور ہو گئے، مرنے کے قریب ہیں"... غزہ کے باسیوں کی جنگ بندی سے وابستہ امیدیں
ٹرمپ امن منصوبے میں 20 نکات شامل ہیں، ان میں "غزہ کی پٹی کا غیر مسلح ہونا اور ایک انتظامی کمیٹی کے زیر انتظام ہونا" نمایان ترین ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ ختم کرنے کا منصوبہ پیش کیے جانے اور حماس کی جانب سے اسے سنجیدگی سے زیرِ غور لانے کے اعلان کے بعد، غزہ کے باسیوں نے ایک نئی امید کی کرن کو تھاما ہے ... اگرچہ شک اور تردد بھی برقرار ہے۔
کئی بے گھر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کی سنجیدگی پر یقین نہیں رکھتے، کیونکہ ماضی کی تمام منصوبہ بندیاں ناکامی پر ختم ہوئیں۔ ایک فلسطینی خاتون نے جو اپنے گھر بار سے محروم ہو چکی ہے، دکھ بھرے لہجے میں العربیہ کو بتایا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ اس بار جنگ بندی واقعی ہو جائے… ہم بہت تھک چکے ہیں، گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، بھوک برداشت کی، ہمارے بچے تھک گئے، ہم خود بیمار ہیں"۔
ایک اور شخص مکمل طور پر مایوس دکھائی دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ "مجھے کوئی امید نہیں … کئی بار کہا گیا کہ جنگ بندی ہونے والی ہے لیکن کچھ نہیں ہوا، سب کھوکھلی باتیں تھیں"۔
ٹرمپ کا منصوبہ
ٹرمپ کے منصوبے میں 20 نکات شامل ہیں۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ غزہ کو غیر مسلح علاقہ بنایا جائے اور اسے ایک انتظامی کمیٹی کے تحت چلایا جائے جو فلسطینی ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی۔ اس کمیٹی میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
یہ کمیٹی ایک نئی بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کے زیرِ نگرانی کام کرے گی جسے "امن کمیٹی" کہا جائے گا۔ اس کی قیادت خود صدر ٹرمپ کریں گے، جب کہ ساتھ دیگر عالمی رہنما اور اراکین بھی ہوں گے۔ ان میں سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔
یہ بین الاقوامی کمیٹی غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے دائرہ کار تشکیل دے گی اور مالیاتی نظام چلائے گی، یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحاتی پروگرام مکمل کر لے اور مؤثر انداز میں غزہ کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کے قابل ہو جائے۔ یہ منصوبہ 2020 کی ٹرمپ امن منصوبہ بندی اور سعودی ۔ فرانسیسی تجاویز کے نکات کو بھی مدِ نظر رکھتا ہے۔
بھوک اور نقل مکانی
اس دوران غزہ میں ہزاروں بے گھر افراد بدترین حالات میں سڑکوں پر پڑے ہیں۔ مالی وسائل نہ ہونے اور محفوظ پناہ گاہوں کی عدم دستیابی کے باعث بہت سے لوگ نقل مکانی کے بجائے اپنے شہروں میں ہی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار افراد غزہ شہر سے نکل کر جنوبی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے بچ سکیں۔