سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کے روز غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کے پیش کردہ منصوبہ کو پورا کرنے کے لیے مملکت کی آمادگی کی منظوری دی ہے۔ تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جامع معاہدہ ممکن ہو سکے۔
کابینہ کا اجلاس ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر صدارت ہوا۔ کابینہ نے اس موقع پر قرار دیا ہے کہ مملکت غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے لیے تعاون کرنے کو تیار رہے اور امریکہ کے ساتھ اس سلسلے میں مل کر کام کرنے اور امریکی منصوبہ کی حمایت کا بھی عزم رکھتی ہے۔ تاکہ غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کو ممکن بنایا جا سکے اور فلسطینیوں کو کافی اور بغیر تعطل کے انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔
نیز جامع امن کا اہتمام دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن بنایا جائے اور فلسطینیوں کو یہ ضمانت دی جا سکے کہ ان کی ریاست 1967 کی پرانی سرحدات پر مشتمل ہوگی اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہوگا۔
سعودی کابینہ نے اس امر کا بھی خیر مقدم کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک طرف غزہ میں جنگ بندی کی نوید سنائی ہے اور دوسری جانب مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ جبری الحاق کو رد کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ منصوبہ پیر کے روز سامنے آیا ہے۔ اس میں اسرائیلی قیدیوں کی مکمل رہائی کے لیے حماس کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے اور اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی فوج کو بتدریج غزہ سے نکالے تاکہ صدر ٹرمپ کے زیر سربراہی ایک عبوری اتھارٹی اپنا کام شروع کر سکے۔
یاد رہے صدر ٹرمپ نے پچھلے ہفتے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ وہ مغربی کنارے کی اسرائیل کے ساتھ الحاق کی حمایت نہیں کرتے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف پر بعض انتہا پسند یہودی سیاستدانوں نے اگرچہ یہ مطالبہ کر رکھا ہے کہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
انتہا پسند اسرائیلی سیاستدانوں کے اس منصوبے کو عرب و مسلم سربراہی کانفرنس میں بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔