اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق امدادی اور خیراتی کام کرنے والے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ غزہ شہر سے 25 نومولود بچوں کو جلدی سے نکالنا ہوگا تاکہ ان کی زندگیاں خطرے سے بچ جائیں۔
غزہ شہر مسلسل بمباری کی زد میں ہیں جہاں اسرائیل نے جارحانہ جنگی کاروائی کو تیز کر رکھا ہے۔ ہسپتال اور گھر سب بمباری کی زد میں ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ الہیلو ہسپتال بھی مسلسل خطرے میں ہے کہ اس کے اردگرد ٹینک موجود ہیں جو مسلسل گولہ باری کر رہے ہیں۔ اس ہپستال میں 12 نومولود بچے انکیوبیٹرز میں موجود ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہسپتال کے کمروں اور حتی کہ بیڈز پر بھی ملبہ گرا ہوا نظر آتا ہے۔ یونیسیف کی ترجمان نے کہا کہ ان بچون کو فوری طور پر یہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ غزہ ایک بار پھر جنگ کا میدان ںن چکا ہے یہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔
اسرائیلی حکام نے یونیسیف ترجمان کے اس بیان اور نومولود بچوں کو درپیش خطرہ کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
یونیسیف ترجمان نے کہ ان نومولود بچوں کو منتقل کرتے ہوئے مسلسل آکسیجن فراہم کرنے والی ڈرپس کی ضرورت ہوگی نیز انہیں بمباری سے آلودہ ماحول سے بچا کر نکال کر لے جانا ہوگا تاکہ وہ کسی انفیکشن کا شکار نہ ہوجائیں۔ دوسری جانب ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اگر غزہ سے ان بچوں کو نکال لیا گیا تو آگے انہیں کونسے ہسپتال منتقل کیا جائے گا یا کون سا ہسپتال انہیں قبول کرلے گا۔
یاد رہے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 66 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جاچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔ سینکڑوں فلسطینی بھوک سے مرچکے ہیں تاہم اسرائیلی بمپاری اور ٹینکوں سے جاری گولہ باری میں کوئی کمی نہیں ہے۔