ماہرین نے غزہ سے انخلا کے امریکی نقشے کی تشریح کر دی

امریکی نقشے میں چار لکیریں دکھائی گئی ہیں، جو موجودہ کنٹرول کے دائرے کی وضاحت سے شروع ہو کر ایک سیکیورٹی بفر زون کے تعین تک جاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ نئے امن منصوبے کی تفصیلات وائٹ ہاؤس نے جاری کی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ میں جنگ ختم کرنا اور اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چار مراحل میں پیش رفت ہو گی، جنھیں مختلف رنگوں کی لکیروں سے ظاہر کیا گیا ہے۔

تزویراتی امور کے مصری ماہر جنرل (ر) محمد مجاہد الزیات کے مطابق پہلی نیلی لکیر اسرائیلی فوج کے حالیہ وجود کو ظاہر کرتی ہے جو غزہ سے خان یونس تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مرحلے میں امدادی سامان، خوراک، پانی اور طبی ضروریات کی رسائی شامل ہے۔

دوسری زرد لکیر منصوبے کے ابتدائی انخلا کے زون کی نشان دہی کرتی ہے، جو شمالی غزہ سے رفح کے مضافات تک ہے۔ اس مرحلے کے ساتھ اسرائیلی یرغمالیوں اور لاشوں کی رہائی، نیز 7 اکتوبر کے بعد گرفتار فلسطینی قیدیوں (بشمول خواتین و بچے اور عمر قید یافتہ) کی رہائی متوازی طور پر ہو گی۔

تیسری سرخ لکیر اس وقت فعال ہو گی جب حماس کے مستقبل کے بارے میں حتمی انتظام طے پا جائے گا اور ایک نئی انتظامی و سیکیورٹی اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جو فوجی انخلا کے بعد غزہ کی نگرانی کرے گی۔ الزیات کے مطابق یہ مرحلہ طویل ہو گا کیونکہ اسرائیل اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وقت لے گا۔

اس کے علاوہ ایک سیکیورٹی بفر زون قائم کیا جائے گا جس میں اسرائیلی افواج موجود رہیں گی، لیکن انخلا کا وقت استحکام کی صورتحال سے مشروط ہو گا۔ منصوبے میں رفح کراسنگ کو فعال کرنے اور اسرائیلی کنٹرول کے بجائے بین الاقوامی انتظام کا ذکر ہے۔ نیز جبری ہجرت کی مخالفت اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی شامل ہے، جو نیتن یاہو اور ان کی حکومت کی دائیں بازو پالیسیوں کے برعکس ہے۔

الزیات نے واضح کیا کہ مصر، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے واضح موقف یعنی جبری ہجرت اور اسرائیلی کنٹرول کی مخالفت نے واشنگٹن اور نیتن یاہو کی سوچ پر اثر ڈالا اور یہی موجودہ امریکی منصوبے کی بنیاد بنا۔

دفاعی ماہر جنرل (ر) وائل ربیع کے مطابق بظاہر یہ منصوبہ قابل عمل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے نفاذ کے لیے طویل سیاسی اور لاجسٹک مشاورت درکار ہو گی۔ سب سے بڑا چیلنج استحکام فورس کی تشکیل اور آخری مرحلے میں بفر زون کی درست حدود کا تعین ہے۔ اسرائیلی نقطہ نظر سے بنائے گئے انخلا کے خطوط منصوبے کو طوالت دے سکتے ہیں، جس سے دوبارہ کشیدگی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

مصر کے سابق سفیر عاطف سالم نے منصوبے کے اہم مثبت پہلوؤں میں جنگ بندی، جبری ہجرت کے منصوبے کی ناکامی، امدادی اداروں کو آزادانہ کام کی اجازت اور مغربی کنارے کے انضمام سے متعلق اسرائیلی ارادوں کی نفی کو نمایاں کیا۔ تاہم انھوں نے نشان دہی کی کہ منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح ٹائم لائن شامل نہیں اور نہ انخلا کے مراحل کے لیے مخصوص مقامات یا اوقات طے کیے گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے اسرائیل کو یورپی پابندیوں سے بچنے اور بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے کا موقع ملے گا، جبکہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات سے متعلق نکات مبہم ہیں اور مستقبل میں بڑے اختلافات کا باعث بن سکتے ہیں۔

منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ فوراً اس وقت ختم ہو جائے گی جب دونوں فریق اس پر رضامند ہو جائیں۔ غزہ کو غیر مسلح زون قرار دے کر ایک فلسطینی کمیٹی اور بین الاقوامی ماہرین کے ذریعے انتظام چلانے کی بات کی گئی ہے، جس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں