ٹونی بلیئر کو بعد از جنگ غزہ کی تعمیر کے لیے کئی دہائیاں چاہیے ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وائٹ ہاؤس نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کرنے کے لیے جس تجویز کا اعلان کیا ہے، اس پر عمل کی صورت میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر غزہ کی عبوری انتظامیہ سے متعلق امور دیکھیں گے۔

ابتدائی طور پر فلسطینی اتھارٹی کا اس عبوری انتظامیہ سے کوئی لینا نہیں ہوگا۔ یہ عبوری انتظامیہ براہ راست صدر ٹرمپ کے زیر سربراہی ہوگی۔ جس کے لیے انہوں نے نیا لفظ 'بورڈ آف پیس' استعمال کیا ہے۔

اس کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ ٹونی بلیئر وہ شخصیت ہیں جنہیں عراق میں جنگ کے بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ٹونی بلیئر کو اسرائیل و لبنان میں جنگ بندی کے لیے بھی ناکام دیکھا گیا تھا۔ اس پس منظر میں سابق برطانوی وزیراعظم کا اس 'بورڈ آف پیس' میں کردار بھی بہت سے شکوک و شبہات کی زد میں ہے کیونکہ انہوں نے 1997 سے لے کر 2007 تک فلسطینیوں سے متعلق جو پالیسی رکھی وہ ٹونی بلیئر کو آج بھی مشکوک بناتی ہے۔

بعد ازاں وہ مشرق وسطیٰ میں اس لیے نمائندہ مقرر ہوئے تاکہ فلسطینیوں کے دوسرے انتفاضہ کا توڑ کر سکیں۔ انہیں عام طور پر نو آبادیاتی دور کی ایک مثالی طاقت کی نمائندہ کے طور پر یاد کیا گیا۔

2012 میں انہیں اسی نمائندگی کے حوالے سے فلسطینی حکام نے کہا کہ خود ٹونی بلیئر کو اس ذمہ داری پر نہیں رہنا چاہیے اور اپنا دفتر بند کر کے واپس گھر جانا چاہیے۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے جسے فلسطینیوں اور ان کے وکیلوں نے قابل مذمت قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ فلسطینیوں کے حقوق کے منافی ہے۔

مصطفیٰ برغوثی فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے سیکرٹری جنرل ہیں ان کا اس بارے میں واشنگٹن پوسٹ سے کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی برطانوی نو آبادیاتی نظام کے نیچے رہ چکے ہیں۔ ٹونی بلیئر کی شہرت اچھی نہیں ہے کہ لوگ اکثر انہیں ان کے عراق میں کردار کے حوالے سے یاد کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے تجویز کردہ 'بورڈ آف پیس' کے مطابق یہ فورم غزہ کے لیے فنڈز کی فراہمی کا بندوبست کرے گا۔ تاآنکہ فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو مکمل کر لے۔

ان تجاویز میں صدر ٹرمپ کا 2020 کا امن منصوبہ اور سعودی عرب و فرانس کی مشترکہ حالیہ تجاویز کے مطابق مؤثر طریقے سے غزہ کا کنٹرول سنبھالا جا سکے گا۔

تاہم ٹونی بلیئر کا اس نئے منصب پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ فورم سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سال تک کی پالیسی کا نشانہ ہوگا۔

اسی سال کے شروع میں ٹونی بلیئر انسٹیٹیوٹ نے بعد از جنگ کے ایک منصوبہ کی حمایت کی تھی۔ جس میں ٹرمپ کا 'غزہ رویرا' بھی شامل تھا اور ایلون مسک کا 'سمارٹ مینوفیکچرنگ زون' بھی۔ اس سے ٹونی بلیئر کے مستقبل کے اہداف اور کردار کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق ہی 5 لاکھ کے قریب لوگوں کو ان کے گھروں اور وطن سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور ان کی جگہ نجی سرمایہ کاروں کو غزہ میں ترغیبات دے کر بلایا جا رہا ہے تاکہ وہ غزہ کو ایک بڑا سیاحتی مرکز بنا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں