غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتھ ہی پورے علاقے میں جشن منایا گیا۔ اس موقع پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
جمعرات کو جاری اپنے بیان میں ان تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے ان کے بنیادی مطالبات جنگ کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے سے متعلق رہے ہیں اور وہ ان نکات پر مسلسل قائم ہیں۔
بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ تجویز پر فلسطینی مذاکراتی وفد کے رد عمل کو بھی سراہا گیا، جسے انھوں نے "دانش مندانہ اور مثبت" قرار دیا۔
فلسطینی تنظیموں نے یہ بھی واضح کیا کہ انھوں نے امداد کی فراہمی، غزہ کی تعمیرِ نو اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق امور کو پوری ذمہ داری کے ساتھ اس مقصد کے لیے نمٹایا کہ فلسطینی عوام کی مصیبتوں کا خاتمہ ہو۔
اسی دوران ایک اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا کہ غزہ سے 20 اسرائیلی مغویوں کی رہائی اتوار یا پیر کے روز متوقع ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے ایک اہل کار نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کا نفاذ حکومت کی با ضابطہ منظوری کے بعد آج شام سے شروع ہو گا۔
البتہ انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج کسی نئی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گی۔
اسی کے ساتھ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ فوج نے غزہ کے اندر بھاری عسکری سازوسامان کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو ابتدائی انخلا کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کر دہ منصوبہ، جس کا اعلان گزشتہ ماہ کے آخر میں کیا گیا تھا، اس کے مطابق اسرائیلی فوج کو ابتدائی مرحلے میں بتدریج انخلا کرنا ہو گا، جس کے ساتھ ہی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
انخلا کا سلسلہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حانون سے شروع ہو گا، پھر بیت لاہیا، غزہ سٹی، البریج، دیرالبلح، خان یونس اور خزاعہ سے ہو کر جنوبی غزہ کے شہر رفح تک پہنچے گا، جو آخری مرحلہ ہوگا۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ غزہ کو غیر مسلح علاقہ بنایا جائے اور خطے کی ازسرِ نو تعمیر کی جائے۔
-
سعودی عرب کا غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم، جامع امن کی ضرورت پر زور
سعودی عرب نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جنگ بندی کا آغاز، تباہ حال علاقے میں خوشی کی لہر
تل ابیب میں حکومتی منظوری کے بعد معاہدہ نافذ
بين الاقوامى -
اسرائیل نے غزہ میں حملے روک دیے، حماس کا کل بڑے شہروں سے انخلا کا مطالبہ
غزہ میں جشن، جنگ بندی منظوری کے بعد ہی نافذ ہوگی: اسرائیلی حکومت
بين الاقوامى