جنگ بندی کا مطالبہ گزشتہ دو برس سے قائم رہا ہے : فلسطینی تنظیموں کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے آغاز کے ساتھ ہی پورے علاقے میں جشن منایا گیا۔ اس موقع پر فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

جمعرات کو جاری اپنے بیان میں ان تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے ان کے بنیادی مطالبات جنگ کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے سے متعلق رہے ہیں اور وہ ان نکات پر مسلسل قائم ہیں۔

بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ تجویز پر فلسطینی مذاکراتی وفد کے رد عمل کو بھی سراہا گیا، جسے انھوں نے "دانش مندانہ اور مثبت" قرار دیا۔

فلسطینی تنظیموں نے یہ بھی واضح کیا کہ انھوں نے امداد کی فراہمی، غزہ کی تعمیرِ نو اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق امور کو پوری ذمہ داری کے ساتھ اس مقصد کے لیے نمٹایا کہ فلسطینی عوام کی مصیبتوں کا خاتمہ ہو۔

اسی دوران ایک اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا کہ غزہ سے 20 اسرائیلی مغویوں کی رہائی اتوار یا پیر کے روز متوقع ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے ایک اہل کار نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کا نفاذ حکومت کی با ضابطہ منظوری کے بعد آج شام سے شروع ہو گا۔

البتہ انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج کسی نئی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گی۔

اسی کے ساتھ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ فوج نے غزہ کے اندر بھاری عسکری سازوسامان کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو ابتدائی انخلا کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کر دہ منصوبہ، جس کا اعلان گزشتہ ماہ کے آخر میں کیا گیا تھا، اس کے مطابق اسرائیلی فوج کو ابتدائی مرحلے میں بتدریج انخلا کرنا ہو گا، جس کے ساتھ ہی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔

انخلا کا سلسلہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حانون سے شروع ہو گا، پھر بیت لاہیا، غزہ سٹی، البریج، دیرالبلح، خان یونس اور خزاعہ سے ہو کر جنوبی غزہ کے شہر رفح تک پہنچے گا، جو آخری مرحلہ ہوگا۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ غزہ کو غیر مسلح علاقہ بنایا جائے اور خطے کی ازسرِ نو تعمیر کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں