"غزہ شہر واپس نہ آئیں": اسرائیلی فوج کی اہل غزہ کو وراننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے معاہدے کے اعلان کے بعد غزہ کے لوگ خوشی منا رہے تھے، تاہم ایسے میں اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو شمالی علاقوں میں واپس جانے سے خبردار کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے جمعرات کو ایک بیان میں "ایکس" پر کہا کہ غزہ وادی کے شمال میں واقع علاقہ اب بھی خطرناک جنگی علاقے کے طور پر شمار ہوتا ہے۔

"غزہ کا محاصرہ کریں گے"

انہوں نے مزید کہا : فوج اب بھی غزہ شہر کو گھیرے میں رکھے ہوئے ہے، کیونکہ وہاں واپس جانا انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا: آپ کی حفاظت کے لیے شمال کی طرف واپس جانے یا سیکٹر کے کسی بھی حصے میں فوجی مقامات اور سرگرمیوں کے قریب جانے سے گریز کریں، بشمول جنوب اور مشرق، جب تک کہ مزید سرکاری ہدایات جاری نہ ہوں۔

اسرائیلی فوج نے حکومت اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور تمام زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فوج قیدیوں کے استقبال کی تیاری کر رہی ہے۔ فوج نے مزید کہا کہ رات بھر کی صورتحال کے جائزے کے بعد اسرائیلی افواج کے سربراہ نے محاذ پر اور اندرونِ ملک تعینات تمام دستوں کو مضبوط دفاعی پوزیشن اختیار کرنے اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔

خان یونس میں غزہ کے باشندوں نے جنگ بندی کے اعلان پر جشن منایا۔
خان یونس میں غزہ کے باشندوں نے جنگ بندی کے اعلان پر جشن منایا۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ فوج کی تعیناتی سیاسی سطح کی ہدایات اور معاہدے کے مراحل کے مطابق ہو گی، اور یہ ذمہ داری کے ساتھ، سپاہیوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے کی جائے گی۔

اس معاہدے کے ساتھ ہی غزہ کے جنوب اور تل ابیب میں جشن کا ماحول ہے، کیونکہ دو سالہ خونریز جنگ کے بعد معاہدے کا اعلان کیا گیا، جس میں فلسطینی صحت کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں 68 ہزارسے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رات کے وقت غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد ہوا۔ "فوکس نیوز" کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے وضاحت کی کہ امریکہ غزہ کے تباہ شدہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے عمل کا حصہ ہو گا، جو دو سالہ جنگ کے نتیجے میں متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا: ہمیں یقین ہے کہ غزہ بہت زیادہ محفوظ جگہ بن جائے گا، اس کی تعمیر نو کی جائے گی، اور خطے کے دیگر ممالک اس کی بحالی میں مدد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو کامیابی حاصل ہوئی ہے ،وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک شاندار کارنامہ ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند دنوں میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جن میں قطر، مصر، ترکی اور امریکہ نے بھی حصہ لیا، تاکہ ٹرمپ کے ستمبر 2025 کے آخر میں پیش کیے گئے منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں