’حماس کی جانب سے باقی لاشیں نہ ملیں تو معاہدے کے اگلے مراحل مؤخر کیے جائیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی اسیران اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حماس باقی 19 اسیران کی لاشیں واپس نہیں کرتی تو غزہ سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے اگلے مراحل پر عمل درآمد مؤخر کر دیا جائے۔

فورم نے اپنے بیان میں کہا کہ "جب تک حماس تمام مغویوں اور ہلاک شدگان کی لاشوں کی واپسی کے وعدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے، حکومت کو معاہدے کے کسی بھی اگلے مرحلے پر عمل روک دینا چاہیے"۔

ٹرمپ فریم ورک کے مطابق اگلے مراحل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تیار کردہ فریم ورک کے مطابق معاہدے کے آئندہ مراحل میں ان حماس رہنماؤں کے لیے عام معافی شامل ہے جو اپنے ہتھیار ڈال دیں گے اور جنگ کے بعد غزہ میں انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل شروع کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی

بدھ کی شام اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے تقاضوں پر عمل نہ کیا تو اسرائیل دوبارہ جنگ شروع کر دے گا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے کہا کہ وہ ان تمام مغویوں کی لاشیں واپس کر چکی ہے جن تک اس کی رسائی ممکن تھی، جبکہ باقی لاشوں کی تلاش کے لیے اسے خصوصی آلات کی ضرورت ہے۔

فورم کا دوٹوک مؤقف

بیان میں مزید کہا گیا کہ "جب تک حماس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 19 مغویوں کی لاشیں روکے ہوئے ہے، اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ طور پر کسی بھی پیش رفت کی کوئی گنجائش نہیں"۔

فورم نے واضح کیا کہ "کوئی بھی سیاسی یا عسکری اقدام جو ان کی فوری واپسی کو یقینی نہیں بناتا اسرائیلی شہریوں سے دستبرداری کے مترادف ہے"۔

قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات

پیر کے روز سے حماس نے اسرائیل کو 20 زندہ قیدی واپس کیے ہیں، جس کے بدلے اسرائیل نے اپنی جیلوں سے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے۔

حماس نے 28 مردہ قیدیوں میں سے 9 کی لاشیں بھی واپس کی ہیں جو اس کی قید میں ہلاک ہوئے، جبکہ ایک اور لاش بھی لوٹائی گئی جس کے بارے میں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی مغوی کی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں