اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ناکام، صرف ایک راستہ باقی ہے: لبنانی سپیکر نبیہ برّی

"میکانزم" ٹریک میں ان ممالک کے نمائندے شامل ہیں جو حالیہ جنگ میں دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کو سپانسر کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی ایلچی ٹام باراک کے اس دعوے کے درمیان کہ لبنان کے پاس اب امن عمل میں داخل ہونے کا موقع ہے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بیری نے اس مسئلے کے بارے میں کچھ تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

مجوزہ مذاکراتی ٹریک ناکام ہو گیا

اخبار الشرق الاوسط کے مطابق نبیہ برّی نے وضاحت کی کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ مذاکراتی ٹریک تل ابیب کی جانب سے اس سلسلے میں امریکی تجویز کا جواب دینے سے انکار کی وجہ سے ختم ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال واحد راستہ ’’ میکانزم ‘‘ ٹریک ہے جس میں متعلقہ ممالک کے نمائندے اور دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کے سپانسرز شامل ہیں۔ اس میکانزم نے گزشتہ نومبر میں لبنان کی حالیہ جنگ کو روک دیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی ایلچی ٹام باراک نے لبنان کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ اسرائیل نے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے س کا آغاز اسرائیلی کارروائیوں کے دو ماہ کے خاتمے اور مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی انخلا اور سرحد کی حد بندی اور حفاظتی انتظامات قائم کرنے کے عمل کے آغاز پر ہوا تھا۔

نبیہ برّی نے اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کے نتیجے میں کسی بھی مذاکراتی عمل سے پسپائی ہوگئی ہے۔ اب جنگ بندی کی نگرانی کی کمیٹی (میکانزم) کے قائم کردہ طریقہ کار کے اندر کام کرنے کے علاوہ کوئی سفارتی راستہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ میکانزم میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ میکانزم اب یہ ہر دو ہفتے بعد ملاقات کرتا ہے۔ وقفے وقفے سے اجلاسوں کے انعقاد کے اپنے سابق انداز کے برعکس ایسا ہر دو ہفتے بعد ملاقات کی جارہی ہے۔

مذاکرات ضروری ہیں

واضح رہے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے معاہدے، جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال کی جھڑپوں کے بعد گزشتہ سال 28 نومبر کو نافذ ہوئے، میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ لبنان کے جنوب میں اس کے زیر قبضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہوگا، حزب اللہ کا دریائے لیطانی کے شمال میں انخلا ہوگا، فوج کے گروپوں کے ساتھ جنگجوؤں کو منظم کردیا جائے گا۔ جنوب میں لبنانی افواج کی تعیناتی کردی جائے گی۔ گزشتہ اگست میں لبنانی حکومت نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے کرنے کے فیصلے کی منظوری دی تھی اور فوج کو اس پر عمل درآمد کا کام سونپا تھا۔ فوج اپنے مشن کی پیش رفت کے بارے میں حکومت کو وقتاً فوقتاً رپورٹیں پیش کرتی رہی۔

دریں اثنا اسرائیلی فوج اب بھی جنوبی لبنان میں پانچ سے زیادہ مقامات پر قابض ہے اور وہ حزب اللہ کے ارکان اور مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے جنوب میں واقع دیہاتوں اور مشرقی لبنان میں وادی بقاع پر تقریباً روزانہ حملے کرتی ہے۔ ان پیش رفتوں کی روشنی میں نبیہ برّی نے یہ کہنے سے انکار کردیا کہ آیا وہ مایوسی پسند ہیں۔ انہوں نے کہا "میں پر امید ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں