"برغوثی کی رہائی میں مدد کریں" ... فلسطینی رہنما کی اہلیہ کا ٹرمپ کے لیے پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینی قیدی مروان برغوثی کی ممکنہ رہائی سے متعلق دیے گئے اشاروں کے بعد ... برغوثی کی اہلیہ نے ٹرمپ کو ایک پیغام بھیجا ہے۔
فدویٰ برغوثی نے اپنے اس پیغام میں امریکی صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے شوہر کی رہائی کے لیے مداخلت کریں۔ فدوی نے امریکی جریدے TIME کو دیے گئے بیان میں کہا "صدر محترم، ایک حقیقی شریک آپ کے منتظر ہیں ... ایک ایسا شخص جو خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد کر سکتا ہے"۔
انھوں نے مزید لکھا "فلسطینی عوام کی آزادی اور آنے والی نسلوں کے امن کے لیے، مروان برغوثی کی رہائی میں مدد کریں"۔
یہ پیغام اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جمعرات کو ٹائم میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، اس سوال کے جواب میں کہ آیا وہ برغوثی کی رہائی کی حمایت کریں گے، کہا تھا "یہ سوال مجھ سے تقریباً پندرہ منٹ پہلے ہی پوچھا گیا تھا..."۔ انھوں نے مزید کہا کہ "میں اس بارے میں فیصلہ کروں گا" ... تاہم انھوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
یاد رہے کہ 66 سالہ مروان برغوثی 2002 سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں۔ انھیں 2004 میں دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران حملوں میں کردار کے الزام میں 5 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اسرائیل نے انھیں ان حملوں اور دھماکوں کا ذمے دار ٹھہرایا جن میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔ تاہم برغوثی نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور اسرائیلی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
برغوثی ماضی میں اوسلو امن عمل میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں اور آج بھی کئی فلسطینیوں کے لیے ایک متحدہ علامت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مسلسل فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے طور پر عوامی سروے میں سرفہرست رہتے ہیں۔
ان کا نام ان قیدیوں کی فہرست میں بھی شامل تھا جنھیں حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت میں شامل کرنے کی کوشش کی، مگر اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ، جنھیں دو سالہ جنگ کے بعد غزہ میں جنگ بندی کرانے کا سہرا دیا جاتا ہے ... اب اس پیچیدہ چیلنج سے دوچار ہیں کہ جنگ کے بعد غزہ کے نظم و نسق کے لیے کیا دائرہ کار قائم کیا جائے۔