سعودی مشرقی ساحل کا ماحولیاتی نظام مجموعی طور پر صحت مند ہے: مطالعہ
سعودی قومی مرکز برائے جنگلی حیات (این سی ڈبلیو) نے پہلے جامع جائزے کی تکمیل کے بعد مملکت کے مشرقی ساحل کے ماحول کو مجموعی طور پر صحت مند قرار دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ میں جنگلی حیات کے مرکز نے کہا کہ 2024 اور 2025 کے دوران 400 سے زائد مقامات پر ہونے والے اس جائزے میں نہایت اہم سمندری اور ساحلی ماحول کے ایک وسیع سلسلے کا مشاہدہ کیا گیا جس میں مرجان کی چٹانیں، سمندری گھاس کے میدان، مینگروو کے جنگلات اور مٹی شامل تھے۔
بین الاقوامی ماہرین کے تعاون سے شروع کردہ اس جائزے میں ایک تفصیلی سائنسی ڈیٹا بیس بنانے کے لیے زیرِ آب عکاسی اور سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ
جیسے طریقے استعمال کیے گئے جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا، "نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مرجان کی صحت مند چٹانوں کی شرح 22٪ تھی اور زیرِ مشاہدہ غالب سمندری انواع نے "سخت ماحولیاتی حالات میں لچک کا مظاہرہ کیا۔"
محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ مینگروو کے جنگلات ایک اندازے کے مطابق 1,573 ہیکٹر پر محیط ہیں اور ان کے پودے صحت مند تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا، "90 انواع کی 80,000 سے زیادہ مچھلیوں کا مشاہدہ کیا گیا۔ فیلڈ ریکارڈ سے بھی بڑے سمندری جانوروں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی جن میں ڈوگونگ، ڈولفن، کچھوے، شارک اور رے مچھلیاں شامل ہیں جس سے ایک اہم آبی رہائش گاہ کے طور پر خلیج عرب کی اہمیت نمایاں ہوتی ہیں۔"
اس تحقیق کے مطابق موسم خزاں کے دوران مہاجر پرندوں کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب کے لیے فرینکلن راج ہنس کی ایک نئی نسل کا مشاہدہ کیا گیا۔
این سی ڈبلیو کے سربراہ محمد قربان نے کہا، یہ جائزہ سمندری ماحول کے تحفظ میں سائنسی تحقیق اور اس کے اطلاق میں پیش رفت کے لیے مملکت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو سعودی ویژن 2030 اور سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
قربان نے وضاحت کی کہ سمندری ماحول کا تحفظ حیاتیاتی تنوع، آب و ہوا کے استحکام اور غذائی تحفظ کے مستقبل کو بہتر بناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے حصول کی غرض سے قومی منصوبوں میں معاونت کے لیے یہ نتائج ایک ایک اہم سائنسی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔