سعودی وزیرِ صحت فہد الجلاجل نے اعلان کیا ہے کہ مملکت جلد ہی "AI Doctor" کے کلینیکك تجربات شروع کرے گی۔ یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو انسان کی خدمت اور معیارِ زندگی کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے قومی رجحان کا حصہ ہے۔ یہ سعودی صحت کے شعبے میں جاری تیز رفتار تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اعلان وزیرِ صحت نے آج "ورلڈ ہیلتھ فورم" سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو خطے کی نمایاں ترین طبی تقریبات میں سے ایک ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو "انسانی صحت پہلے" کے اصول کے لیے غیر محدود سرپرستی حاصل ہے، خواہ وہ مملکت کے اندر ہو یا دنیا کے کسی اور حصے میں۔
فہد الجلاجل نے بتایا کہ سعودی وژن 2030 نے صحت کے منظرنامے میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے، جس کے تحت ملک نے "بیماری کے بعد علاج" سے ہٹ کر "بیماری سے پہلے بچاؤ" کی پالیسی اختیار کی۔ اس تبدیلی کے اثرات عوامی صحت کے اشاریوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مملکت میں دیرینہ امراض سے اموات کی شرح 40 فی صد کم ہو چکی ہے جو اقوامِ متحدہ کے ہدف سے بھی بہتر ہے ... جبکہ ٹریفک حادثات سے اموات میں 60 فی صد سے زیادہ کمی آئی ہے، جو عالمی ادارہ صحت کے اہداف سے آگے ہے۔
وزیرِ صحت نے مزید بتایا کہ ملک میں 70 فی صد سرطان کے کیس ابتدائی مراحل میں شناخت کر لیے جاتے ہیں اور اوسط متوقع عمر 2016 میں 74 سال سے بڑھ کر 2025 میں 79 سال تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ سب اس نئے نگہداشت ماڈل کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے جو اس اصول پر قائم ہے کہ "انسان کی دیکھ بھال اس کی زندگی شروع ہونے سے پہلے کی جائے"۔
انھوں نے بتایا کہ پری میریٹل میڈیکل اسکریننگ پروگرام سے اب تک 60 لاکھ سے زائد جوڑے مستفید ہو چکے ہیں۔ موروثی مشاورت پر عمل درآمد کی شرح 15 فی صد سے بڑھ کر 85 فی صد ہو گئی ہے، جو موروثی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
سعودی وزیر صحت نے بتایا کہ تحقیقی میدان میں کلینیکل تحقیقوں کی تعداد ایک سال میں 51 فی صد بڑھ گئی ہے اور "AI Doctor" کا منصوبہ ایک ایسے مستقبل کی طرف قدم ہے جہاں انسانی تجربہ اور تکنیکی صلاحیتیں مل کر زیادہ درست اور مؤثر علاج فراہم کریں گی۔
مزید یہ کہ فورم کے دوران 124 ارب ریال سے زیادہ مالیت کے معاہدے اور سرمایہ کاری کے منصوبے طے کیے جائیں گے، جو سعودی صحت کے شعبے پر عالمی سطح پر اعتماد اور اس کی مسابقتی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
آخر میں فہد الجلاجل نے کہا وژن 2030 نے ہمیں صحت کے منظرنامے کو بدلنے کی وسعت دی ہے۔ ہم درد میں سرمایہ کاری سے نکل کر امید میں سرمایہ کاری کی طرف بڑھ گئے ہیں اور علاج کے بعد سے ہٹ کر علاج سے پہلے کی روک تھام کو ترجیح دی ہے، تاکہ انسانی صحت ہمیشہ سب سے مقدم رہے۔
-
اگست میں سعودی عرب کی غیر تیل برآمدات میں 5.5% کا اضافہ
کل اشیائی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 6.6 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں سب سے زیادہ معذوری "چلنے پھرنے سے محرومی" کی شکل میں ہے : شاہ سلمان مرکز
اعداد و شمار کے مطابق 79.7 فی صد سعودی خاندانوں میں کم از کم 1 فرد معذور ہے
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو کانفرنس کا نواں ایڈیشن آج سے شروع
کانفرنس میں 250 ڈائیلاگ سیشنز کے ذریعے آٹھ ہزار سے زیادہ شرکا اور 650 مقررین شرکت ...
بين الاقوامى