سعودی عرب میں انسانی رنگوں سے جگمگاتی شہر کی گلیاں اور پارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ریاض کے شہری عبدالعزیز الحربی کا کہنا ہے کہ محلوں کے خالی مقامات کو پارکوں اور سبزہ زاروں میں بدلنا شہر کو انسان دوست بناتا ہے۔ آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی گلیاں اور پارک اس "انسانی شہر" کے تصور کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں، جہاں کھیل کے میدان، سبزہ زار، عوامی چوک اور واکنگ ٹریکس ہر عمر کے لوگوں کے لیے زندگی کی علامت بن گئے ہیں۔

ریاض میں اس تبدیلی کی بنیاد سعودی ویژن 2030 کے تحت رکھی گئی، جب سنہ2018ء میں شروع ہونے والے ""جودہ الحیات"" پروگرام نے شہری مناظر کو بہتر بنانے، خدمات کے معیار کو بلند کرنے اور شہری منصوبہ بندی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔

پروگرام کے تحت شہریوں کے لیے عوامی مقامات کی اوسط فراہمی 4.65 مربع میٹر کے ہدف سے بڑھا کر 6.16 مربع میٹر فی کس کر دی گئی۔ ملک بھر میں 8 ہزار 328 پارک اور تفریحی مقامات قائم کیے گئے جن کا مجموعی رقبہ 16 کروڑ 15 لاکھ مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ یہ سب "انسانی شہر" کی اُس پہچان کو مضبوط کرتا ہے جس کا مقصد شہریوں کی صحت، خوشی اور سماجی تعلقات کو بہتر بنانا ہے۔

ریاض کے 700 پارک

دارالحکومت ریاض کے مختلف محلوں میں اب 700 سے زیادہ پارک موجود ہیں جو جدید سہولتوں سے آراستہ ہیں۔ ان پارکوں میں بچوں کے لیے نرسریاں، کھیل کے میدان، معذور افراد کے لیے خصوصی کھیل کے آلات، ورزش کے زون، سائیکل ٹریکس اور سماجی میل جول کے لیے کھلی جگہیں شامل ہیں۔

ان پارکوں کے ڈیزائن میں مقامی شناخت کا خیال رکھا گیا ہے۔ شہریوں کو پارکوں کے نام تجویز کرنے، عمارتوں کے ڈیزائن اور استعمال شدہ مواد کے انتخاب میں شریک کیا گیا۔ پارکوں تک آسان رسائی اور کم سے کم فاصلہ رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

جدید سکیورٹی نظام

عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے ریاض بلدیہ نے "سمارٹ مانیٹرنگ سسٹم" متعارف کرایا ہے جس کے تحت 1600 سے زائد کیمرے مصنوعی ذہانت کی مدد سے نگرانی کرتے ہیں۔ یہ نظام شہریوں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ سرگرم ہے۔

شہری زندگی میں حقیقی تبدیلی

پروگرام جودہ الحیات کے سربراہ خالد البکر کے مطابق یہ منصوبہ سعودی شہروں کے شہری مناظر میں نمایاں بہتری لا رہا ہے۔ اب پارک، ساحلی مقامات اور سبز راہیں شہری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ "انسانی شہر" کے منصوبے کے تحت 149 نئے پارک قائم ہوئے، 62 شہری اصلاحی منصوبے مکمل ہوئے اور دس لاکھ سے زائد درخت لگائے گئے۔ جدہ میں 2 لاکھ 5 ہزار مربع میٹر رقبے پر "بہجہ" پروجیکٹ کے تحت ابحر کا ساحلی علاقہ عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے جس میں 27 ہزار مربع میٹر سبزہ زار اور 2600 میٹر طویل سائیکل ٹریک شامل ہے۔ اب مشرقی صوبے میں "فرضہ الخبر" کے منصوبے پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔

نئے شہر کا تصور

خالد البکر کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام سعودی شہروں کو محض کام کی جگہوں سے زندگی کے مراکز میں بدلنے کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ "انسانی شہر" کے نظریے کے ذریعے عوامی مقامات اور شجر کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی بہتر ہو، مناظر خوشنما ہوں اور شہروں کی شناخت زیادہ پُرکشش بنے۔

یہ تمام اقدامات سعودی عرب میں پائیدار شہری ترقی، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسمارٹ سٹیز اور عوام کے لیے بہتر معیارِ زندگی کے حصول کی سمت ایک مضبوط قدم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں