اسرائیلی ریاست کی فوج نے الزام لگایا ہے کہ لبنانی حزب اللہ خود کو نئے سرے سے مضبوط اور منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ الزام منگل کے روز جاری کیے گئے بیان میں سامنے آیا ہے۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی کو اس ماہ کے اواخر میں ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔
تاہم اس جنگ بندی کے ایک سال کے دوران بھی اسرائیلی فوج کے لبنان پر حملے اور بمباری کے بیسیوں واقعات جاری رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نداو شوشانی نے کہا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ لیطانی دریا کے جنوبی حصے میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ اس لیے اسرائیلی فوج اس لبنانی علاقے میں اپنی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ حزب اللہ کا صفایا کیا جا سکے۔
ترجمان شوشانی نے نیوز بریفنگ کے دوران یہ بھی کہا کہ حزب اللہ شام اور دوسرے علاقوں سے بھی اسلحہ سمگل کر کے لبنان لانے کی کوشش میں ہے۔ ہم اسلحہ سمگلنگ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور زمین پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ تاکہ شام سے لبنان میں اسلحہ داخل نہ ہو۔ ہمیں شام سے لبنان کی طرف اسلحہ سمگلنگ روکنے میں بڑی کامیابی ملی ہے لیکن ابھی بھی خطرہ موجود ہے۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ ہم جنگ بندی معاہدے کے ساتھ کمٹڈ ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ 7 اکتوبر 2023 والی صورتحال بنے۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں دہشت گردوں سے ہمیں خطرہ لاحق ہوا تھا۔ اب بھی ہم دہشت گردوں کو اپنی سرحد اور شہریوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
ادھر حزب اللہ اپنی قوت کو دوبارہ منظم کرنے کے الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے ساتھ پوری طرح کمٹڈ ہے۔ تاہم حزب اللہ اسلحہ چھوڑنے کے مطالبات کو مسترد کرتی ہے۔
اسرائیل لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حزب اللہ سے اسلحہ کی واپسی کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کرے۔ لبنانی فوج کو بھی بڑی امید ہے کہ وہ 2025 کے اواخر تک جنوبی لبنان کو حزب اللہ کے اسلحے سے پاک کردے گی۔ بلاشبہ ایک کمزور حزب اللہ کے ساتھ لبنانی فوج کو ڈیل کرنے میں زیادہ مشکلات نہیں ہوں گی۔