سعودی عرب میں آثار قدیمہ کی دریافت نے نبطی اور اسلامی عہد کے بیچ زمانی خلا کو پُر کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب میں العُلا ضلع کے روئل کمیشن اور فرانسیسی قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے ایک نیا سائنسی مطالعہ جاری کیا ہے۔ یہ تحقیقی مطالعہ جزیرہ نما عرب اور مشرق وسطیٰ کے آثار قدیمہ سے متعلق بین الاقوامی سطح کے ممتاز جریدے Arabian Archaeology and Epigraphy میں شائع ہوا۔ یہ تحقیق پہلی مرتبہ وادی القری (موجودہ العلا) میں تیسری سے ساتویں صدی عیسوی تک پھیلے ایک تاریخی دور کی نہایت باریک اور مفصل معلومات کو دستاویزی شکل دیتی ہے۔

یہ مطالعہ اس دور کا احاطہ کرتا ہے جو شمال مغربی جزیرہ نما عرب میں نبطی عہد کے اختتام اور اسلامی دور کے آغاز کے درمیان ایک علمی خلا سمجھا جاتا تھا۔ روایتی طور پر یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ اس عرصے کے دوران تیماء، خیبر، الحجر اور دیگر مقامات پر مستقل انسانی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہو گئی تھی۔

العلا ضلع کے روئل کمیشن میں ثقافتی سیاحت کے شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر عبدالرحمن السحیبانی اس تحقیق کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ نتائج وادی القری کی تاریخ کے ایک نہایت اہم باب کا انکشاف کرتے ہیں اور اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اسلام کے ظہور سے قبل کی صدیوں میں العلا ایک خوش حال اور فعال آباد کاری کے مربوط نظام کا حصہ تھا۔

ڈاکٹر السحیبانی کے مطابق یہ تحقیق شمال مغربی جزیرہ نما عرب کی مقامی معاشرتوں کے بارے میں ہماری سمجھ میں اضافہ کرتی ہے اور العلا کی حیثیت کو ایک ایسے خطے کے طور پر مضبوط کرتی ہے جس کا تہذیبی تسلسل زمانے کے ساتھ برقرار رہا ہے۔

یہ تحقیق دادان آثار قدیمہ منصوبے کے تحت انجام دی گئی، جو العلا ضلع کے روئل کمیشن، فرانسیسی قومی مرکز برائے سائنسی تحقیق (CNRS) اور العلا فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی (AFALULA) کے مابین تعاون کا نتیجہ ہے۔ اس مطالعے میں 2021 سے 2023 تک کے تین مسلسل کھدائی سیزن کے نتائج کو دستاویزی شکل دی گئی۔ یہ کھدائی دادان کے آثار قدیمہ کے مقام کی حدود میں واقع ایک قدیم ٹیلے پر کی گئی، جو دادان سے ایک کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر جنوب کی جانب واقع ہے۔

کھدائی کے دوران ایک بڑی عمارت دریافت ہوئی جو تیسری صدی کے اواخر یا چوتھی صدی کے آغاز میں تعمیر کی گئی تھی اور ساتویں صدی عیسوی کے ابتدائی نصف تک استعمال میں رہی۔ یہ دریافت اس خطے میں پانچویں صدی کے آغاز سے ساتویں صدی کے آغاز تک مستقل آبادی کے تسلسل کا پہلا مکمل آثار قدیمہ ثبوت فراہم کرتی ہے۔

تحقیقی نتائج سے مقام کا ایک واضح تعمیراتی اور ثقافتی تسلسل سامنے آتا ہے، جس میں منظم کمروں اور صحنوں کا جال، ایک مرکزی صحن جس میں کنواں، حوض اور آبی نہریں شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ زراعت، فصلوں کے ذخیرے، غذائی پیداوار اور دست کاری سرگرمیوں کے شواہد بھی ملے ہیں۔ یہ تمام عناصر ایک مستحکم اور منظم معاشرے کی موجودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

مطالعے میں کثیر الشعبہ تحقیقی طریقہ اختیار کیا گیا، جس میں مٹی کے برتنوں، پتھریلے اوزاروں، نباتاتی باقیات، حیوانی ہڈیوں اور آثار قدیمہ سے متعلق ارضیات کا تجزیہ شامل تھا۔ اس جامع طریقہ کار کے ذریعے اس دور کے غذائی نظام، زرعی سرگرمیوں اور نخلستانی ماحول کے بارے میں نئی اور اہم تفصیلات سامنے آئیں۔

یہ معلومات وادی القری کی تاریخ سے متعلق روایتی تصور میں نمایاں تبدیلی پیش کرتی ہیں، کیونکہ یہ واضح ہوتا ہے کہ چوتھی سے چھٹی صدی عیسوی کے درمیان اس علاقے میں آباد کاری کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا تھا جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہاں ایک ایسا مستقل مقام موجود رہا جس میں ترقی یافتہ تعمیراتی ڈھانچہ اور پانی کے انتظام کا داخلی نظام تھا۔ یہ صورت حال اسلام کے ظہور سے عین قبل تک معاشی اور سماجی تسلسل کی عکاس ہے۔

یہ سائنسی کامیابی العلا ضلعکے روئل کمیشن کے اس عزم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جدید آثار قدیمہ تحقیق کی سرپرستی اور معتبر عالمی تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کا مقصد العلا کی تاریخ کو ازسرنو دریافت کرنا اور اسے جزیرہ نما عرب کی تاریخ کے مطالعے میں ایک عالمی سائنسی حوالہ بنانا ہے۔ یہ امر مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جن میں ثقافتی سیاحت کا فروغ، معیشتِ علم کی تقویت اور قدرتی و ثقافتی ورثے کا تحفظ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں