سعودی عرب نے نوجوانوں کا عالمی"اے آئی"مقابلہ جیت لیا،امریکہ دوسرے اورپاکستان چوتھے نمبرپر
مقابلے میں مجموعی طور پر سعودی نوجوانوں نے 26 اعزازات اپنے نام کیے
مملکتِ سعودی عرب نے نوجوانوں کے عالمی مصنوعی ذہانت مقابلے WAICY 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہلا مقام حاصل کر لیا اور مجموعی طور پر 26 اعزازات اپنے نام کیے۔
اس مقابلے میں سعودی عرب نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا جو دوسرے نمبر پر رہا جبکہ انڈونیشیا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ کینیڈا اور پاکستان مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے کردار اور مسلسل کامیابیوں کا تسلسل ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے"کے مطابق مقابلے کے موجودہ مرحلے میں دس ہزار سے زائد جدید منصوبے پیش کیے گئے جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر مبنی تھے۔ ان منصوبوں میں انسان اور کرۂ ارض کے مستقبل سے جڑے موضوعات شامل تھے جن میں موسمیاتی تبدیلی صحت تعلیم ثقافت اور سماجی جدت شامل ہیں۔
یہ منصوبے چار بنیادی شعبوں میں پیش کیے گئے جن میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی نمائش مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فن پارے مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیوز اور بڑے لسانی ماڈلز کا شعبہ شامل تھا۔
سعودی عرب نے 26 اعزازات کے ذریعے پہلا مقام حاصل کیا جن میں مختلف تعلیمی مراحل سے تعلق رکھنے والے 18 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ ان طلبہ نے 11 تمغے جیتے اور 163 منصوبے تیار کیے جو سخت مقابلے کے بعد فائنل مرحلے تک پہنچے۔
دوسرے نمبر پر امریکہ نے 24 اعزازات حاصل کیے جبکہ انڈونیشیا نے سات اعزازات کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد کینیڈا اور پاکستان نے پانچ پانچ اعزازات جیتے۔ بھارت اور قطر نے تین تین اعزازات حاصل کیے جبکہ آرمینیا پرتگال نائجیریا چین یونان اور جنوبی کوریا نے دو دو اعزازات اپنے نام کیے۔
برطانیہ میکسیکو ہانگ کانگ بنگلہ دیش مصر تیونس کینیا لیبیا اور ایران نے ایک ایک اعزاز حاصل کیا۔
سعودی عرب کے حاصل کردہ 26 اعزازات مختلف شعبوں میں تھے جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بڑے لسانی ماڈلز اور ثقافتی منصوبے شامل ہیں جو خاص طور پر نجدی ورثے کے گرد گھومتے تھے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فنون کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب مصنوعی ذہانت سے متعلق متعدد عالمی اشاریوں میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ ان میں اس شعبے کی ترقی روزگار کے مواقع ماہر افرادی قوت کی شمولیت جدید اے آئی ماڈلز میں عالمی درجہ بندی اور عوامی آگاہی شامل ہے جو سنہ 2025ء کے دوران نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔
خیال رہے کہ WAICY مقابلہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں دنیا کے بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں شمار ہوتا ہے جس کا مقصد طلبہ کی اختراعی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور مستقبل کے چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہے۔ رواں برس 103 ممالک سے 132 ہزار طلبہ و طالبات فائنل مرحلے تک پہنچے جبکہ چار ہزار سے زائد اساتذہ نے نگرانی اور رہنمائی میں فعال کردار ادا کیا۔