ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے تقریباً 3000 قیدیوں کے باہمی تبادلے پر اتفاق کیا ہے۔
اس امر کی دونوں طرف کے حکام نے منگل کے روز تصدیق کی ہے۔
حکومتی وفد کے ایک رکن ماجد فضیل نے یمنی حکومت کی طرف سے بھیجے گئے وفد میں شامل ہو کر حوثیوں کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا۔ جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے ہزاروں جنگی قیدی رہا ہو سکیں گے۔
حوثیوں کے ایک ذمہ دار عبد القدیر جو وفد کا حصہ تھے نے 'ایکس' پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوسرے فریقوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر معاہدہ ہوگا۔ جس کے نتیجے میں ہمارے 1700 قیدیوں کو رہائی ملے گی اور ہم ان کے 1200 قیدیوں کو رہا کریں گے۔
-
یمن: المہرہ میں دستی بم دھماکے میں خاتون اور دو بچے جاں بحق
سلطنت عمان کی سرحدی پٹی پر واقع صوبہ المہرہ میں یہ اپنی نوعیت کا شاذ و نادر پیش ...
بين الاقوامى -
یمنی نائب وزیر خارجہ نے العربیہ سے گفتگو میں کہا: یمن کی یکجہتی سے کوئی کھیل نہ کرے
النُعمان نے کہا کہ انقلابی کونسل پورے یمن کے جنوب کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہیں ...
مشرق وسطی -
ترکیہ کی پارلیمنٹ میں ہاتھا پائی، اجلاس دو مرتبہ معطل
بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے، ایوان میں شدید ہنگامہ ...
بين الاقوامى