لبنانی عدالتی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ سکیورٹی ادارے مشکوک ہیں کہ موساد ریٹائرڈ نقیب احمد شکر کے بقاع علاقے میں اغوا کے پیچھے ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ احمد شکر کو بلدۃ النبی شیت سے اعلی زحلہ تک بہکایا گیا، جہاں اسے اغوا کیا گیا۔مزید بتایا گیا کہ لبنان کو شبہ ہے کہ ایک گروپ اغوا سے دو دن قبل بیروت ایئرپورٹ میں داخل ہوا تھا۔
عدالتی ذرائع کا اشارہ ہے کہ تفتیش سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ اغوا کا واقعہ اور اسرائیلی پائلٹ رون اراد کے غائب ہونے کے کیس کے درمیان تعلق موجود ہو سکتا ہے۔
رون اراد کا کیس
یاد رہے کہ احمد شکر حزب اللہ کے دوسرے شخص فؤاد شکر کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں 30 جولائی 2024 کو بیروت کے جنوبی نواح میں حارہ حریک میں ایک ہوائی حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ سنگین سکیورٹی واقعہ اس طویل فہرست کو دوبارہ سامنے لے آتا ہے، جس میں اسرائیل نے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو رون اراد کے کیس سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق رکھتے تھے، چاہے یہ قتل، اغوا یا بھرتی کی کوششوں کے ذریعے ہوا ہو۔