مغربی کنارے کے علاقے بیت لحم میں بدھ کے روز صاف نیلے آسمان کے نیچے سکاؤٹس نے کرسمس کی خوشی کے سلسلے میں سڑکوں پر مارچ کیا۔ غزہ کی 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے دو سال جاری رہنے تک بیت لحم میں مسیحی عوام بھی کرسمس کی خوشی منانے سے قاصر رہے۔
تاہم اب پہلی بار پورے جوش و جذبے سے کرسمس کا تہوار منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
یاد رہے بیت لحم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش ہے۔
دوسری طرف غزہ میں شدید سردی کی وجہ سے بے شمار لوگ پھٹے پرانے اور بوسیدہ ٹینٹوں باعث ٹھٹھر رہے ہیں۔
ادھر ویٹیکن سٹی میں کیتھولک مسیحی فرقے کے پوپ لیو سینٹ پیٹرز باسیلیکا کرسمس کے موقع پر پہلا بڑا عوامی خطاب کریں گے۔ انہوں نے 24 گھنٹے کے لیے پوری دنیا میں امن کی اپیل بھی کر رکھی ہے تاکہ کرسمس کے موقع پر کہیں کوئی جنگی سرگرمی نہ ہو۔ کیتھولک پوپ کو ماہ مئی پوپ فرانسس کے انتقال کے بعد پوپ مقرر کیا گیا تھا۔
نئے پوپ اپنے کرشماتی شخصیت کے حامل پیشرو پوپ فرانسس کے مقابلے میں زیادہ معاملہ فہم اور مفاہمت شعار ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امیگریشن اور سماجی انصاف کے ایشوز پر ویٹیکن کے پرانے مؤقف کو قائم رکھا ہے۔
دنیا بھر میں مسیحی خاندان کرسمس کے سلسلے میں جمع ہونا شروع ہو چکے ہیں اور بچے بھی ہر جگہ تحائف ملنے کے منتظر ہیں۔
خوشیوں بھرا تہوار
بیت لحم میں کرسمس کے مخصوص گیت ڈھولوں اور باجوں کے ساتھ بجائے جا رہے ہیں۔ ہر طرف تہوار کی وجہ سے شادمانی کا اظہار ہے۔ مسیحی نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ شہر کے مرکزی چوراہے کی طرف رواں دواں ہیں۔ جبکہ سکاؤٹس کے گروپ پیلے اور نیلے رنگ کے یونیفارم میں مارچ کر رہے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ آج کا دن خوشیوں سے بھرا ہوا ہے کیونکہ اس سے پہلے غزہ کی جنگ نے ہمیں خوشیاں منانے کی مہلت نہیں دی تھی۔
سکاؤٹس کی اس پریڈ میں سیکنڑوں لوگ شریک ہیں جو بیت لحم کی سٹار سٹریٹ سے بھی گزر رہے ہیں۔ ایک بھرپور ہجوم مرکزی چوراہے کی طرف موجود ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں تماشائی اپنے گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں سے ان مناظر کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ایک چمکتا دمکتا کرسمس ٹری بھی چرچ کے نزدیک اپنا رنگ جمائے ہوئے ہے۔
4 صدیوں پرانی باسیلیکا کی کھجوریں بھی 2000 سال سے بھی پہلے حضرت عیسیٰ کی جائے ولادت بننے والی جگہ بیت لحم کو تاریخی حیثیت سے اجاگر کر رہے ہیں۔
سکاوٹس کے ایک دستے میں شامل 18 سالہ کتائب عمایہ نے کہا ہے ہم نے تہوار کی خوشیوں کی از سر نو تجدید کی ہے اور پورے علاقے کی مسیحی کمیونٹی یہاں موجود ہے۔ اس تہوار سے اور لوگوں کی موجودگی سے ہمیں حوصلہ ملا ہے، امید ملی ہے اور ہم اپنی روایات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
اس 18 سالہ سکاؤٹ نے مزید کہا جب غزہ میں جنگ جاری تھیں تو بیت لحم کی میونسپلٹی نے کرسمس کے تہوار کو اس طرح نہیں منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اب 10 اکتوبر سے غزہ میں جنگ بندی کی وجہ سے ہماری خوشیاں ہمیں واپس مل گئی ہیں۔
ہفتہ کے اختتام پر مسیحیوں کے سینیئر علماء نے غزہ کا دورہ کیا اور غزہ کے پادری سے ملاقات کی۔ تاہم اب بیت لحم کرسمس کے سلسلے میں بہت ہی اہم جگہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کی رونقیں دوبالا ہیں۔ ہر طرف سیاحوں اور زائرین کا ہجوم ہے۔
جارج ھنہ نے اس صورتحال کے بارے میں کہا بیت لحم ایک خصوصی جگہ ہے۔ جس کے پڑوس میں بیت جالہ ہے۔ ہم پوری دنیا کو اس موقع پر خوشیوں کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ جارج نے کہا کرسمس خوشی اور لطف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔