ریاض میں ارضیاتی وسائل کی تلاش کے لیے اسٹریٹجک منصوبے کا آغاز

سعودی جیولوجیکل سروے اتھارٹی کے اقدامات، سکیورٹی اور پائیدار ترقی کو فروغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

سعودی عرب کی جیولوجیکل سروے اتھارٹی نے ریاض ریجن میں اسٹریٹجک منصوبوں اور پروگراموں کا ایک جامع پیکج نافذ کیا ہے۔ ان اقدامات کا مرکز ارضیاتی خطرات کی نگرانی اور معدنی وسائل کی تلاش ہے۔ یہ اقدامات بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، محفوظ شہری منصوبہ بندی کے فروغ اور مملکت کے وژن سنہ 2030ء کے مطابق پائیدار ترقی کی حمایت کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

اتھارٹی میں جیولوجیکل پروگراموں کے اسسٹنٹ نائب صدر زبن الحربی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ اس وقت بڑے اسٹریٹجک منصوبے جاری ہیں۔ ان میں معدنی وسائل کے سروے اور تلاش کے منصوبے شامل ہیں جبکہ ارضیاتی خطرات سے بچاؤ اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے خصوصی منصوبے بھی نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں زمینی دھنساؤ کے مظاہر کا مطالعہ، وادیوں کے راستوں اور ان کی چوڑائیوں کا تعین اور بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے لیے باریک بینی سے جیوٹیکنیکل مطالعات شامل ہیں۔

ارضیاتی خطرات کی نگرانی کا مربوط نظام

زبن الحربی نے واضح کیا کہ ریاض ریجن میں ارضیاتی خطرات کی نگرانی میں اتھارٹی کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ کام ایک مربوط نظام کے تحت انجام دیا جا رہا ہے جس میں مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ، جدید جیوٹیکنیکل تجزیہ اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے ارضیاتی اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا انضمام اور تجزیہ شامل ہے۔

نگرانی کی کوششوں میں چٹانی تودوں کے گرنے کے مقامات، وادیوں کے راستوں، زمینی دھنساؤ اور دراڑوں والے علاقوں کے باقاعدہ دورے شامل ہیں۔ ان مظاہر کو فضائی فوٹوگرافی اور خصوصی فنی پیمائشوں کے ذریعے دستاویزی شکل دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ارضیاتی ساخت، دراڑوں اور فالٹس کا تجزیہ، چٹانوں اور مٹی کی خصوصیات کا مطالعہ اور شہری علاقوں پر بارشوں اور سیلاب کے اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس سے خطرات کی سطح اور علاقوں کے دھنسنے یا گرنے کے امکانات کا اندازہ ممکن ہوتا ہے۔

میدانی نتائج، تحفظ اور سلامتی میں اضافہ

زبن الحربی کے مطابق ریاض ریجن میں فیلڈ مانیٹرنگ کے نتیجے میں اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان میں ایسے مقامات کی نشاندہی شامل ہے جہاں چٹانی تودوں کے گرنے کا خطرہ زیادہ ہے، غیر مستحکم چٹانی بلاکس کی نشاندہی کی گئی جن کے لیے انجینیئرنگ حل درکار ہیں، فعال سیلابی راستوں کی دستاویز بندی کی گئی اور پانی کے جمع ہونے کے ایسے مقامات متعین کیے گئے جو سڑکوں اور تنصیبات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

اسی طرح زمینی دھنساؤ کے مقامات اور سطحی دراڑوں کی نشاندہی کی گئی جو مٹی کی نمی میں تبدیلی، پھیلاؤ اور سکڑاؤ کے باعث پیدا ہوئیں، نیز وادیوں کے متوازی دراڑیں بھی سامنے آئیں جو زمینی دباؤ میں تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ یہ نتائج مسلسل نگرانی، تجزیے اور حفاظتی حلوں کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور علاقے میں عمومی سلامتی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

پائیدار ترقی کے لیے ارضیاتی ڈیٹا

پائیدار ترقی کی حمایت کے حوالے سے زبن الحربی نے بتایا کہ سعودی جیولوجیکل سروے اتھارٹی نے ارضیاتی علوم سے متعلق فنی ڈیٹا تمام سرکاری اور نجی اداروں کے لیے قومی جیولوجیکل ڈیٹا بیس پورٹل کے ذریعے فراہم کر دیا ہے جو ویژن سنہ 2030ء کے اقدامات میں شامل ہے۔

اس ڈیٹا میں مختلف پیمانوں پر تیار کردہ ارضیاتی نقشے، جیو فزیکل اور جیو کیمیکل سرویز کے نتائج اور خصوصی سائنسی رپورٹس شامل ہیں جو فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوتی ہیں اور سائنسی بنیادوں پر فنی سفارشات فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح پورٹل کے ذریعے ڈیٹا لیئرز کو براہ راست منسلک کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے جس سے انہیں مکانی تجزیے اور مختلف سائنسی اور انجینیئرنگ اطلاق میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امید افزا سرویز اور معدنی دریافتیں

سروے اور تلاش کے حوالے سے زبن الحربی نے بتایا کہ اتھارٹی ریاض ریجن میں جیو فزیکل اور جیو کیمیکل سرویز اور تفصیلی نقشہ سازی کے سب سے بڑے منصوبے نافذ کر رہی ہے، خاص طور پر عربین شیلڈ کے دائرے میں۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں 1612 معدنی مقامات کی دستاویز بندی کی گئی جو قومی جیولوجیکل ڈیٹا بیس میں درج مملکت کے کل معدنی مقامات کا تقریباً 28 فیصد بنتے ہیں۔

یہ مقامات دھاتی اور غیر دھاتی صنعتی معدنیات پر مشتمل ہیں۔ حالیہ عرصے میں ان میں سے متعدد کو ترقی دے کر سرمایہ کاری کے مواقع کے طور پر پیش کیا گیا جن میں سونا، تانبا اور لوہا جیسے اسٹریٹجک معدنیات شامل ہیں، جس سے ریاض ریجن میں معدنی سرمایہ کاری کی کشش میں اضافہ ہوا ہے۔

خطرات کے نقشے اور فوری فنی سفارشات

زبن الحربی نے مزید بتایا کہ اتھارٹی ارضیاتی خطرات کے تفصیلی نقشے تیار کر رہی ہے اور متعلقہ سرکاری اداروں کو شہری منصوبہ بندی اور بروقت فیصلوں کے لیے ضروری ڈیٹا فراہم کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب کسی فعال خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے تو فوری فنی سفارشات بھی پیش کی جاتی ہیں جن میں ڈھلوانوں کو مضبوط بنانا، پانی کی نکاسی کے نظام کو بہتر کرنا اور ضرورت پڑنے پر سیلابی راستوں کو دوبارہ منظم کرنا شامل ہے۔

مستقبل کے منصوبے اور ارضیاتی علم میں اضافہ

گفتگو کے اختتام پر زبن الحربی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اتھارٹی اپنے مستقبل کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان منصوبوں میں ریاض ریجن کے شمالی اور مشرقی حصوں میں رسوبی چٹانوں کے جیولوجیکل اور جیو فزیکل سرویز کی تکمیل شامل ہے تاکہ چٹانی ساخت اور معدنی ارتکاز کی نشاندہی کی جا سکے اور ارضیاتی علم کی بنیاد کو مضبوط بنایا جا سکے جو معاشی ترقی، ماحول کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی سلامتی میں معاون ثابت ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں