یمن اور حوثی

سعودی وزیر دفاع کا یمنی دھڑوں سے دانشمندی اختیار کرنے اور کشیدگی ختم کرنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمنی عوام اور دھڑوں کے نام ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ دانشمندی کو ترجیح دی جائے اور کشیدگی کے خاتمے کی طرف بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یمنی آئینی حکومت کی درخواست پر ’عاصفہ الحزم‘ اور ’امید نو‘ کے ذریعے آئینی اتحاد کی قیادت کی، جس کا مقصد یمنی ریاست کی بحالی اور اس کی خودمختاری کو پورے ملک میں قائم کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی صوبوں کی آزادی اس عمل میں ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے مسئلے کو ایک منصفانہ سیاسی مسئلہ سمجھتا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے افراد تک محدود یا ایسے تنازعات میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو اس کے اصل مقصد اور مستقبل کو نقصان پہنچائیں۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت نے تمام یمنی فریقوں کو ریاض کانفرنس میں جمع کیا تاکہ یمن میں جامع سیاسی حل کے لیے ایک واضح راستہ متعین کیا جا سکے، جس میں جنوبی یمن کے مسئلے کا حل بھی شامل ہے۔ ریاض معاہدے نے جنوبی عوام کی اقتدار میں شراکت کو یقینی بنایا اور طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے کے ذریعے سب کی متفقہ رائے سے منصفانہ حل کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حمایت سیاسی، اقتصادی ،ترقیاتی اور انسانی شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے جس سے یمنی عوام کی مشکلات کم ہوئیں اور چیلنجز کے مقابلے میں ان کے حوصلے کو تقویت ملی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت اور اس کے اتحادیوں کی قربانیاں یمنی ریاست کی بحالی اور تمام یمنیوں کی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے تھیں نہ کہ نئے تنازعات کو جنم دینے یا محدود مفادات حاصل کرنے کے لیے۔

سعودی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ یمنی آئینی حکومت کی درخواست پر مملکت نے برادر ممالک کو آئینی اتحاد میں شامل کیا اور "عاصفہ الحزم" اور " امید نو" کے تحت وسیع کوششیں کی گئیں تاکہ یمنی ریاست کی عملداری پورے ملک میں بحال ہو سکے، جبکہ جنوبی صوبوں کی آزادی نے اس ہدف کے حصول میں مرکزی کردار ادا کیا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ مملکت اور اتحاد میں شامل برادر ممالک نے یمن کے بھائیوں کے ساتھ مل کر عدن اور دیگر یمنی صوبوں کی آزادی کے لیے اپنے بیٹوں اور وسائل کی قربانیاں دیں۔ مملکت کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ یہ قربانیاں زمین اور ریاست کی بحالی کے لیے ہوں نہ کہ نئے تنازعات کا سبب بنیں اور تمام یمنیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر سنہ 2025ء کے آغاز سے حضرموت اور المہرہ صوبوں میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے دشمن کے مقابل صفوں میں دراڑ ڈالی، ان قربانیوں کو ضائع کیا جو ہمارے اور یمن کے بیٹوں نے دیں اور منصفانہ جنوبی مسئلے کو نقصان پہنچایا۔

جنوبی قیادت کے ذمہ دارانہ کردار کی ستائش

شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ جنوبی علاقوں کی متعدد جماعتوں، قیادت اور شخصیات نے حضرموت اور المہرہ میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت میں باخبر اور دانشمندانہ کردار ادا کیا، معاشرتی امن کی بحالی میں حصہ لیا اور محفوظ جنوبی صوبوں کو بے مقصد تنازعات میں گھسیٹنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قائدین نے اس وقت یمن کو درپیش بڑے چیلنجز کو سمجھا اور یمن اور خطے میں اپنے مقاصد کے لیے تاک میں بیٹھے عناصر کو موقع نہ دینے کی سوچ اپنائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مملکت کے نزدیک جنوبی مسئلہ کسی بھی جامع سیاسی حل میں ہمیشہ شامل رہے گا، اسے فراموش کیا جائے گا اور نہ نظرانداز کیا جائے گا۔ اس مسئلے کا حل تمام یمنیوں کے درمیان اتفاق رائے، وعدوں کی پاسداری اور اعتماد سازی کے ذریعے ہونا چاہیے نہ کہ ایسی مہم جوئی کے ذریعے جو صرف سب کے دشمن کو فائدہ پہنچائے۔

سعودی وزیر دفاع نے اپنے پیغام کے اختتام پر جنوبی عبوری کونسل سے اپیل کی کہ وہ دانشمندی اور عوامی مفاد کو ترجیح دے، سعودی اماراتی ثالثی کی کوششوں کا مثبت جواب دے، کشیدگی ختم کرے اور حضرموت اور المہرہ میں کیمپوں سے افواج کا انخلا کر کے انہیں پرامن طریقے سے درع الوطن فورسز اور مقامی حکام کے حوالے کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں