اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنی بمباری دوبارہ شروع کر تے ہوئے منگل کی صبح دو میزائل فائر کر کے ضلع صیدا میںواقع سینیقہ الغازیہ کے صنعتی علاقے میں تین منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا ۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکے سے آس پاس کی عمارتوں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک جگہ پر پھٹے بغیرایک میزائل ملا ہے جبکہ ایک عمارت ممکنہ طور پر گرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔لبنانی صدر جوزف عون نےبکا اور جنوبی دیہاتوں سمیت صیدا شہر پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے ہر قسم کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بیان میں کہا کہ بار بار ہونے والی اسرائیلی فضائی کارروائیاں کئی سوالات پیدا کرتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ایک کمیٹی کا اجلاس ہونا تھا ،جو جارحیت روکنے اور جنوب لبنان میں استحکام بحال کرنے کے عملی اقدامات پر غور کرے، جس میں اسرائیلی افواج کا سرحدی علاقوں سے انخلا، لبنانی قیدیوں کی رہائی اور لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے قرارداد نمبر 1701 میں کہا گیا ہے۔
عون نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جارحیت جاری رکھنے کا مقصد مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے تمام اقدامات کو ناکام بنانا ہے، حالانکہ لبنان نے ان کوششوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج نے جنوب لبنان اور اس کے مشرقی حصے میں بھی حملے کیے تھے اور اس سے پہلے اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ چار دیہات کو خالی کرنا ضروری ہے تاکہ حزب اللہ اور فلسطینی تحریک حماس کے اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔اگرچہ نومبر 2024 میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، اسرائیل مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کی زیر تعمیر فوجی صلاحیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، جسے ایران کی مدد سے دوبارہ مضبوط کیا جا رہا ہے۔
لبنانی فوج کئی بار واضح کر چکی ہے کہ وہ جنوب نہر اللیطانی میں ریاست سے باہر ہتھیار جمع کرنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے، جیسا کہ حکومت کی ہدایت ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے پچھلے ہفتے اعلان کیا کہ لبنان کی حکومت اور فوج نے حزب اللہ کے ہتھیار جمع کرنے کی کوششیں کی ہیں، لیکن وہ "کافی نہیں" ہیں، حزب اللہ کی دوبارہ مسلح ہونے کی کوششوں پر ایران کا سہارا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ہتھیار دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ اس سے پہلے اسرائیل کو جنگ بندی کی پابندی کرنی ہوگی، خاص طور پر حملے بند کرنا اور جنوب لبنان کے پانچ مقامات سے اپنی افواج کو نکالنا۔