صومالی لینڈ ایک حقیقی خودمختار ریاست ہے، فلسطین کی طرح نہیں ، اسرائیلی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سائر نے کہا ہے کہ صومالی لینڈ فلسطین کی طرح ایک غیر حقیقی یا مجازی نوعیت کی ریاست نہیں ہے بلکہ صومالی لینڈ حقیقی معنوں میں اپنی آزادی کی طرف بڑھنے والی اور آزادی بحال کرنے والی ریاست ہے۔

اسرائیلی خارجہ نے یہ بات منگل کے روز صومالی لینڈ کے دورے کے موقع پر کہی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ پہلی بار صومالیہ کے اس حصے کے دورے پر گئے ہیں جسے اسرائیل نے پچھلے ماہ ایک خودساختہ خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس پر صومالیہ کے علاوہ دنیا بھر سے اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی اور اس اسرائیلی فیصلے کو مسترد کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے بھی اس اسرائیلی فیصلے کو مسترد کیا کیونکہ اسرائیل کا یہ اعلان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ صومالی لینڈ نے اپنی آزادی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے اس کا معاملہ فلسطینی ریاست جیسا نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا صومالی لینڈ مکمل طور پر ایک فنکشنل ریاست ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے۔

سائر نے ان خیالات کا اظہار صومالی لینڈ کے صدر عبید الرحمن محمد عبداللہی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کے شروع کیے گئے ابراہم معاہدے کی روح کے مطابق ہے۔ اسرائیل نہ صرف یہ کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ زراعت ، صحت و ٹیکنالوجی کے علاوہ معاشی تعاون کی پالیسی بھی اختیار کرے گا۔

یاد رہے صومالی لینڈ صومالیہ میں خانہ جنگی کے باعث 1991 سے اپنے آپ کو الگ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اسے دنیا کے کسی بھی ملک نے اس سارے عرصے کے دوران تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل نے پچھلے ماہ اس کو تسلیم کرنے کا علان کیا اور اب اسرائیلی وزیر خارجہ منگل کے روز صومالی لینڈ میں موجود تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں