ایران کا موساد سے وابستہ نیٹ ورک توڑنے اور دو افراد گرفتار کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے صوبہ شمالی خراسان میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد سے وابستہ ہونے کے دعوے پر دو افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ اطلاع سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی انٹیلی جنس تنظیم کے ایک باخبر ذریعے نے دی ہے۔

ذریعے نے وضاحت کی کہ سکیورٹی فورسز نے بجنورد شہر میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ذریعے نے کہا کہ گرفتار افراد پر ایک ایسے نیٹ ورک کے اندر قائدانہ کردار ادا کرنے کا شبہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موساد سے منسلک ہے اور وہ صوبہ شمالی خراسان میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات کو منظم کرنے میں ملوث ہیں۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے گرفتار ہونے والوں کے قبضے سے رابطے اور جاسوسی کے آلات کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے۔ تاہم اب تک ان الزامات کی صداقت کی تصدیق کے لیے کوئی آزادانہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

مظاہروں میں ہلاکتیں 538 ہوگئیں

اسی تناظر میں انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کی مہم کے نتیجے میں کم از کم 538 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار اتوار کے دن تک کے ہیں۔

اسی طرح تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے مظاہرین کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال کیا تو امریکہ اور اسرائیل جائز اہداف ہوں گے۔ امریکہ میں مقیم انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ دو ہفتوں کے مظاہروں کے دوران 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ایجنسی نے کہا معلومات کی باہمی تصدیق کے لیے ملک کے اندر موجود کارکنوں کے نیٹ ورک پر انحصار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ترکیہ نے موساد پر ایران میں احتجاج کو بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ اسرائیل اقتصادی چیلنجوں اور اندرونی بے چینیوں کا فائدہ اٹھا کر ایران میں تقسیم کو گہرا کر رہا ہے۔ موساد انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایرانیوں کو نظام کے خلاف اٹھنے کی دعوت دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں