آئرلینڈ کی وزیر ہیلن میکِنٹی جو وزیر امیگریشن، تجارت اور دفاع بھی ہیں، انھوںنے منگل کی صبح مصر اور غزہ کے درمیان رفح سرحدی گذرگاہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ رسمی تھا تاکہ وہ غزہ کے باشندوں تک انسانی اور امدادی سامان پہنچانے کی کوششوں کا جائزہ لے سکیں۔
وزیر نے شمالی سیناء کے شہر العریش میں واقع مصری ریڈ کریسنٹ کے گوداموں کا بھی دورہ کیا ،مصر اور مصری ریڈ کریسنٹ کے رضاکاروں کی غزہ کے باشندوں کو مستقل امداد فراہم کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
اس سے قبل پیر کو قاہرہ میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں آئرلینڈ کی وزیر نے مصر کے غزہ میں حالات کو بہتر بنانے میں کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو عملی شکل دی جائے اور غزہ میں مزید انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دی جائے۔
دونوں اطراف سے گذرگاہ کا کھلنا
وزیر خارجہ مصر بدر عبد العاطی نے پریس کانفرنس میں زور دیا کہ مصر کا کردار غزہ میں انسانی، طبی اور غذائی امداد کی روانگی کو آسان بنانے میں نہایت اہم ہے، خاص طور پر رفح گذرگاہ کے ذریعے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گذرگاہ دونوں طرفوں یعنی "مصری اور فلسطینی" سے کام کرے تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے اور امداد کے سلسلے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے اور علاج کے بعد واپس آنے کی اجازت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیر خارجہ نے اپنی آئرلینڈ کی ہم منصب کو صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے فلسطینی شہریوں کے روزمرہ کے امور کے انتظام کے لیے عارضی انتظامی ماہرین کی کمیٹی کے قیام کی اہمیت اور سیکیورٹی کونسل کے فیصلے 2803 کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات
وزیر خارجہ مصر نے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت کے لیے مصر کی کوششوں کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں یورپی حمایت کے تجویز کو سراہا۔
انہوں نے فلسطینی زمینوں کی یکجہتی یعنی مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو ایک واحد علاقے کے طور پر برقرار رکھنے، اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرنے پر زور دیا جو غزہ کی پٹی کو تقسیم کرے یا دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرے۔
دوسری جانب آئرلینڈ کی وزیر ہیلن میکِنٹی نے کہا کہ ان کا رفح گذرگاہ کا دورہ اس بات کی نشاندہی کے لیے ہے کہ غزہ میں شدید انسانی بحران کے درمیان سخت سردیوں کے موسم میں، علاقے کے باشندوں کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
اس سے قبل فلسطینی مہاجرین کی امدادی اور روزگار فراہم کرنے والی ایجنسی "اُنروا" کے ترجمان عدنان ابو حسنے نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ اسرائیل نے 6000 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل ہمیں 6000 ٹرک مدد فراہم کرنے سے روک رہا ہے، جو غزہ کے دروازوں پر کھڑے ہیں، ان میں غذائی اشیاء ہیں جو پورے علاقے کے لیے 3 ماہ کے لیے کافی ہیں، نیز خیمے اور کمبل ہیں جو 1300000 فلسطینیوں کے لیے کافی ہیں۔
انسانی کام پر سنگین اثرات
انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی علاقے میں 37 بین الاقوامی اداروں کو کام کرنے سے روکنا انسانی خدمات پر شدید منفی اثرات مرتب کرے گا۔
ان کے مطابق یہ اسرائیلی فیصلہ انسانی کام کی نظام کو غیر قابل قبول ذرائع سے نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے بعد غذائی اشیاء کی ترسیل میں معمولی بہتری آئی ہے، لیکن مجموعی طور پر علاقے میں انسانی حالات میں کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی ہے۔