ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران میں جاری بد امنی کے مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے دور کر لیا جائے گا۔ پیر کے روز اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا یہ مرحلہ ایران کے لیے ایک نیا امتحان ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا ترکیہ ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف کھڑا ہو گا جو علاقے کو افراتفری کی طرف لے جانے والی ہوگی۔ اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ اللہ ایرانی بھائیوں کو اس صورت حال سے مذاکرات کے ذریعے ہی نکلنے کی توفیق دے گا۔ انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد ٹی وی پر تقریر بھی کی۔
خیال رہے ایران میں احتجاج کے شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ترکیہ کے صدر نے اس بارے میں بات کی ہے۔ ایران میں احتجاج 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا۔
اس احتجاج کی وجہ ایران میں سالہا سال سے جاری مالی بد حالی بنی جو امریکہ اور یورپی ملکوں کی طرف سے لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا فطری نتیجہ ہے۔ تاہم ایرانی تاجروں اور دکانداروں نے احتجاج کو ایرانی رجیم تبدیلی کا رخ دے دیا۔
پچھلے سال ماہ جون میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ جس میں امریکہ نے بھی بد ترین بمباری کی تھی ایرانی معیشت کو ایک اور بڑے دھچکے کا باعث بنی تھی۔ اب یہ احتجاج ایک طرح سے اسی بارہ روزہ جنگ کا نیا امتحان بن گیا تھا۔
صدر ایردوآن نے کہا ایرانی وزیر خارجہ کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈیواس کانفرنس میں ایران کے شریک نہ ہونے کا کہا ہے یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے پڑوسی ایران کو پہلے اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور اب اس کی سماجی استحکام اور امن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایران کا نیا امتحان ہے۔
ہم سب ان مناظر کو دیکھ رہے ہیں کہ ایران کی سڑکوں پر لکھنے کی کوشش کی گئی اور یہ اب بھی جاری ہے۔
اس صورت حال میں ہم ایسی کسی بھی کوشش کے خلاف کھڑے ہوں گے جو علاقے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہو گی۔ اس لیے ترکیہ نے ایران پر حملے کی مخالفت کی۔