اسرائیل نے رفح گزر گاہ کھولے جانے کے انتظامات کی تفصیلات جاری کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی شام اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی تلاش مکمل ہونے کے بعد رفح گزرگاہ کو صرف افراد کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دے گا۔ اس حوالے سے اسرائیلی ذرائع نے طے شدہ انتظامات کی تفصیلات بھی ظاہر کر دی ہیں۔

آج پیر کے روز ان ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ کابینہ نے گذشتہ روز کے اجلاس میں غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی گزرگاہ کھولنے کی منظوری دی ہے، تاکہ لوگوں کو اسرائیلی سکیورٹی کے براہ راست معائنہ کے بغیر غزہ سے مصری علاقوں میں جانے کی اجازت دی جا سکے۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق معائنے اور جانچ پڑتال کے اقدامات یورپی یونین کا ایک مشن اور فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ مقامی عملہ مل کر سرانجام دے گا، جبکہ اسرائیل صرف دور سے نگرانی کرے گا۔

رفح گزرگاہ (آرکائیو – اے ایف پی)
رفح گزرگاہ (آرکائیو – اے ایف پی)

ذرائع نے اشارہ دیا کہ "مصر سے غزہ میں داخلہ دو مراحل میں ہوگا: پہلے یورپی یونین کا مشن ابتدائی تفتیش کرے گا، اور پھر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں اسرائیلی سکیورٹی معائنہ کیا جائے گا تاکہ اسمگلنگ یا غیر مجاز افراد کے داخلے کو روکا جا سکے"۔ اگرچہ روانہ ہونے والے اور واپس آنے والے افراد کی حتمی تعداد ابھی طے نہیں کی گئی، تاہم اندازہ ہے کہ روزانہ چند سو افراد گزر سکیں گے۔

مزید برآں، ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ "شاباک" سکیورٹی اسسمنٹ کی بنیاد پر آنے اور جانے والوں کی شناخت کی پیشگی منظوری دے گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ "حماس تنظیم کے نچلے درجے کے ان ارکان کو بھی باہر جانے کی اجازت ملنے کا امکان ہے جن پر قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا شبہ نہیں ہے، اس کے علاوہ تنظیم کے ارکان کے خاندانوں کو بھی جانے کی اجازت ہوگی"۔

امریکہ کی حمایت یافتہ اور غزہ کا عارضی انتظام سنبھالنے والی فلسطینی عبوری کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے گزشتہ جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ رفح گزرگاہ کے جلد دوبارہ کھلنے کی توقع ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع قصبہ رفح کے قریب یہ گزرگاہ، جو غزہ کو مصر سے ملاتی ہے، تقریباً ایک سال سے بند تھی۔ گزشتہ سال اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی تک رسائی پر پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ یہ گزرگاہ بیس لاکھ سے زائد آبادی کے لیے غزہ میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کو محدود رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے نکلنے والوں کی تعداد واپس آنے والوں سے زیادہ رہے۔

تصویری عنوان
رفح گزرگاہ (آرکائیو – اے ایف پی)
رفح گزر گاہ (آرکائیو – اے ایف پی)

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں