سعودی عرب کی یمن کو بڑی امداد، 70 بجلی گھروں کے لیے تیل کی فراہمی شروع

منصوبہ یمن کی معیشت کو متحرک اور ترقیاتی سفر کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کے پروگرام برائے ترقی و تعمیرِ نو یمن نے ملک بھر میں قائم 70 سے زائد بجلی گھروں کو تیل کی مصنوعات فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ترسیل آج یمن کی آئل کمپنی پٹرومسيلہ کے صدر دفتر سے شروع ہوئی، جہاں سے امدادی کھیپیں یمن کے مختلف صوبوں میں بجلی پیدا کرنے والے تمام مراکز تک پہنچانے کے لیے روانہ کی گئیں۔ یہ اقدام سعودی قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کے تحت کیا جا رہا ہے۔

تیل کی اس امدادی کھیپ کی مجموعی مقدار 339 ملین لیٹر ڈیزل پر مشتمل ہے، جس کی مالیت 81.2 ملین امریکی ڈالر ہے۔ اس منصوبے کو جامع اور مربوط حکمرانی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تیل کی فراہمی براہ راست مستفید ہونے والوں تک پہنچے۔ اس مقصد کے لیے متعدد یمنی اداروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بجلی گھروں کی جانب سے پیش کی گئی ضروریات کے مطابق تیل کی تقسیم کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرے گی۔

یہ امدادی عطیہ بجلی کے شعبے کو سہارا دینے، معاشی اور سماجی استحکام کو مضبوط بنانے اور یمنی اداروں کی صلاحیت اور کارکردگی بڑھانے کے لیے دی جا رہی ہے، تاکہ وہ بنیادی خدمات کی مسلسل فراہمی، پیداواری اور خدماتی تنصیبات کے آپریشن کو برقرار رکھ سکیں۔ اس سے جمہوریہ یمن میں ترقی اور معاشی بحالی کے عمل کو تقویت ملے گی۔

ترقیاتی اعتبار سے اس عطیہ کی اہمیت اس بات میں نمایاں ہے کہ یہ ایک جامع معاون ذریعہ ہے جو سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بناتا، یمن کی معیشت کو متحرک کرتا اور برادر یمنی عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ بجلی کی قابل اعتماد فراہمی سے ہسپتالوں، طبی مراکز، سڑکوں، سکولوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں میں سہولت بڑھے گی، جبکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘کے بیان کے مطابق اس عطیہ کے اثرات مالی، معاشی اور خدماتی سطح پر ہمہ گیر ہیں۔ یہ یمن کے مرکزی بینک جیسے اداروں کو سہارا دیتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے لیے یہ ایندھن کے اخراجات اور بجلی کے شعبے کے آپریشن سے جڑے مالی بوجھ میں کمی کا باعث بنتی ہے، جبکہ وزارتِ بجلی اور توانائی کے لیے یہ بجلی گھروں کو ایندھن کی مستحکم فراہمی، مسلسل آپریشن، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کارکردگی میں بہتری کو یقینی بناتی ہے۔

واضح رہے کہ وزارتِ توانائی و بجلی یمن، یمن آئل کمپنی پٹرومسيلہ اور سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیرِ نو یمن کے درمیان 21 جنوری 2026ء کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت پروگرام پٹرومسيلہ سے تیل کی مصنوعات خریدے گا۔ اس کا مقصد یمن میں قومی تنصیبات کی سرگرمی کو فروغ دینا، اہم تنصیبات کو فعال رکھنا اور یمنی کمپنیوں کے کردار کو توانائی کے شعبے میں ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر مضبوط بنانا ہے، تاکہ بجلی کی پائیداری بڑھے اور تجارتی و معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیرِ نو یمن ماضی میں بھی تیل کی مصنوعات کے عطیات فراہم کر چکا ہے، جن میں سنہ 2018ء میں 180 ملین ڈالر، سنہ 2021ء میں 422 ملین ڈالر اور سنہ 2022ء میں 200 ملین ڈالر کا عطیہ شامل ہے، جبکہ موجودہ عطیہ سنہ 2026ء کے لیے دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں