'ابھی اور ڈرون راستے میں ہیں': ایرانی رہنما کا ڈرون گرانے پر امریکہ کا تمسخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی فوج کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو گرانے کے اعلان کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے اس ڈرون کے ایران سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ردعمل دیا ہے۔

ابراہیم رضائی نے گذشتہ روز منگل کی شام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایک ایسے ڈرون کو گرانے پر جس کی ملکیت ابھی واضح نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دعووں کی سچائی ثابت ہوئی ہے انہوں نے عالمی سطح پر شور مچا دیا ہے، وہ اپنی اس حرکت پر خوشیاں منا رہے ہیں اور جشن کے طور پر بوتلیں کھول رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ خالی گلیوں کے بدمعاش! ڈرونز ابھی راستے میں ہیں۔

امریکی موقف اور دفاعی کارروائی

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے واضح کیا تھا کہ ایرانی ساختہ شاہد 139 ڈرون طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی طرف غیر واضح ارادے کے ساتھ اڑ رہا تھا جسے ایک امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے نے مار گرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف 35 سی طیارے نے ابراہام لنکن سے پرواز بھری اور دفاعی مقاصد کے تحت جہاز اور اس پر موجود عملے کی حفاظت کے لیے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی ساز و سامان کو گزند پہنچی۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی

امریکی فوج کے مطابق ڈرون گرائے جانے کے چند گھنٹے بعد پاسداران انقلاب کی فورسز نے آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جس پر امریکی عملہ موجود تھا۔ ہاکنز نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کی دو کشتیاں اور ایک مہاجر نامی ایرانی ڈرون تیز رفتاری کے ساتھ سفینہ ستینا امپیریٹو کے قریب آئے اور اس پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی۔

ادھر بحری خطرات سے نمٹنے والے گروپ وانگارڈ نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی کشتیوں نے ٹینکر کو انجن بند کرنے اور تلاشی دینے کا حکم دیا تاہم ٹینکر نے اپنی رفتار بڑھا دی اور اپنا سفر جاری رکھا۔ یہ واقعات ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب سفارت کار ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اسی دوران امریکی جنگی جہاز بھی ایرانی ساحلوں کے قریب موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں