شامی وزیر خارجہ اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان پُر جوش سلام اور مسکراہٹوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران گذشتہ روز عالمی رہنماؤں کے درمیان متعدد مذاکراتی نشستیں ہوئیں۔ تاہم شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے سربراہ مظلوم عبدی کے درمیان ملاقات نے بہت سے شامیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ یہ دونوں رہنما امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے لیے ایک ساتھ داخل ہوئے تھے۔

کیمرے کی آنکھ نے الشیبانی اور عبدی کے درمیان پرُ جوش سلام اور مسکراہٹوں کے تبادلے کو محفوظ کیا، جو کہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔

شام کے لیے خصوصی امریکی ایلچی ٹوم براک نے بھی اس ملاقات پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے جمعے کی شام ایکس پر الشیبانی، روبیو اور عبدی کی ایک مشترکہ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے، ایک نئی شروعات"۔

براک کا اشارہ ایس ڈی ایف اور شامی حکومت کے درمیان حال ہی میں ہونے والے اس معاہدے کی طرف تھا جس نے ان کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے اور ایک متحدہ شام کی طرف راستہ ہموار کیا ہے۔

ایس ڈی ایف کے سربراہ نے اس ملاقات کو مثبت اور بہتر قرار دیا۔ انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ملاقات میں معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور اس کے اگلے مراحل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اس معاہدے کی سہولت کاری اور اس کے عمل کی حمایت پر امریکہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یاد رہے کہ ایس ڈی ایف اور دمشق نے گذشتہ ماہ 30 جنوری کو ایک نیا جامع معاہدہ کیا تھا جس کے تحت فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی اور کرد فورسز کے سرکاری افواج میں مکمل انضمام کے اقدامات طے پائے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف نے الحسکہ اور قامشلی میں اپنے فوجی مراکز، ہوائی اڈے اور تیل کے کنوئیں سرکاری سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیے ہیں، جو گذشتہ ماہ وہاں داخل ہوئی تھیں۔

یہ پیش رفت حلب، دیر الزور اور رقہ سمیت شمال مشرقی شام کے دیگر علاقوں میں فوجی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں پر شامی افواج نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ کامیابی امریکی ثالثی اور کوششوں کے بعد ممکن ہوئی تاکہ فریقین کو امن اور حتمی معاہدے کی طرف لایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں