جنگ کے بعد سرحدی علاقوں میں ہوائی اڈوں کی تعمیر کا اسرائیلی منصوبہ
جنگ بندی کے بعد علاقوں میں اقتصادی ترقی کے امکانات ہیں: نیتن یاہو کا دعویٰ
اسرائیلی کابینہ نے غزہ کی پٹی میں ایک نیا بین الاقوامی ایئرپورٹ تعمیر کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب شمال کے لیے ایک اور ایئرپورٹ پر کام جاری ہے۔
وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو جو اس سال دوبارہ منتخب ہونے کے لیے تیار ہیں، یہ منصوبے ان کے اس دعوے کو وسعت دیتے ہیں کہ گذشتہ سال غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی سے لڑائی ختم ہو گئی جو اسرائیل کی اقتصادی ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔
زکلاگ اور رامات ڈیوڈ کے لیے طے شدہ ایئرپورٹس کا اعلان کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر نشر کردہ ریمارکس میں وزراء سے کہا، "صرف اسی طرح ہم سیاحوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور ہر سال ملک میں آنے والے لاکھوں لوگوں کو ہوائی سفر کے لیے حقیقی خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔"
تل ابیب سے باہر بین گوریون ایئرپورٹ دنیا کے لیے اسرائیل کا مرکزی راستہ ہے جس سے 2024 میں ایک اندازے کے مطابق 14.5 ملین مسافروں نے سفر کیا ہے۔ جنوبی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ایلات کے قریب ایک دوسرے ایئرپورٹ سے بین الاقوامی ٹریفک کم گذرتا ہے۔
جنوری میں امریکہ-ایران کشیدگی کی بنا پر بعض غیر ملکی مسافر بردار کمپنیوں نے بین گوریون کے لیے پروازیں معطل کر دی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کے باوجود کشیدگی کسی نہ کسی حد تک برقرار ہے۔
غزہ کی پٹی سے تقریباً 15 کلومیٹر (نو میل) کے فاصلے پر واقع زکلاگ شہر صحرا کا ایک حصہ ہے جس کا بائبل میں ذکر ہے۔ یہ علاقہ ایک جنگ کے دوران بعض اوقات حماس کی شدید گولہ باری کی زد میں آیا تھا۔
رامات ڈیوڈ اس وقت اسرائیلی فضائیہ کے مرکز کی جگہ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے الگ سے کہا ہے کہ وہ لبنان کی سرحد کے قریب واقع قصبہ کریات شمونہ میں ایک طویل عرصے سے بند میونسپل ایئرپورٹ دوبارہ کھولے گی۔ یہ قصبہ حزب اللہ کے راکٹوں نے تباہ ہو گیا ہے۔