لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے دو رہائشی جاں بحق
لبنان نے جمعہ کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر لبنان میں حملہ کر کے دو فلسطینی پناہ گزینوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
یہ دونوں افراد لبنان میں فلسطینیوں کے لیے قائم سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھتے تھے۔
اسرائیلی فوج نے ان دونوں ہلاک کیے گئے فلسطینیوں کو حماس کے جنگجو قرار دیا ہے۔
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے 'نیشنل نیوز ایجنسی' کی رپورٹ کے مطابق یہ اسرائیلی فوج کا ڈرون عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ کے نزدیک تھا۔ یہ پناہ گزین کیمپ جنوبی شہر سیدون میں قائم ہے۔
لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے میں دو افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے 'نیشنل نیوز ایجنسی' نے ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا تھا۔
مغربی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے نمائندے کے مطابق اس نے ایک عمارت سے دھواں بلند ہوتا دیکھا۔ یہ عمارت پناہ گزین کیمپ کے انتہائی گنجان حصے میں واقع رھی۔ جبکہ کچھ ہی دیر بعد اس علاقے میں ایمبولنس کو جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے اس حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے حماس کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ کیونکہ اس مرکز سے دہشت گردوں کو ہدایات دی جاتی تھیں۔
یاد رہے 27 نومبر 2024 کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہو جانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پچھلے سال نومبر میں اسی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق دفتر کا کہنا ہے ان 13 افراد میں سے 11 بچے تھے۔ تاہم اسرائیل کا موقف وہی پرانا ہے کہ اس کا ہدف جنگجو تھے۔
یاد رہے اسرائیلی فوج نے حماس کے ساتھ غزہ میں اپنی لڑائی کے دوران 72 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور یہ سلسلہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی جاری ہے۔
لبنان کی طرف سے پچھلے اتوار کو کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے شامی سرحد کے نزدیک بھی حملہ کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں لبنان کی مشرقی سرحد پر 4 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج نے اس حملے کو بھی فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد پر حملے کا نام دیا تھا۔