سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہاکابی کے ان بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےانہیں مسترد کردیاہے جن میں انہوں نے لاپروائی سے یہ اظہار کیا تھا کہ پورے مشرق وسطیٰ پر اسرائیل کا کنٹرول ایک قابل قبول امر ہوگا۔
مملکت نے ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرنے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سفارتی آداب کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ سعودی عرب کے مطابق کسی امریکی عہدیدار کی جانب سے ایسا بیان سامنے آنا ایک خطرناک مثال ہے اور یہ خطے کے ممالک کے امریکہ کے ساتھ مثالی تعلقات کی توہین کے مترادف ہے۔
اس حوالے سے سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ انتہا پسندانہ سوچ انتہائی بھیانک نتائج کی پیش گوئی کر رہی ہے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ بیانات خطے کے ممالک اور ان کے عوام کو اشتعال دلانے کے ساتھ ساتھ اس بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو بھی پامال کرتے ہیں جس پر دنیا بھر کے ممالک نے ماضی کی خونریز جنگوں کے خاتمے کے لیے اتفاق کیا تھا جن میں لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ اس بین الاقوامی نظام نے ہی ممالک کی جغرافیائی حدود کے احترام اور ان کی زمین پر خود مختاری کے اصول وضع کیے تھے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کو چاہیے کہ وہ اس نظریے پر اپنا موقف واضح کرے جسے دنیا کے تمام امن پسند ممالک کی جانب سے مسترد کیا جا چکا ہے۔
مملکت نے اس ضمن میں اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہر اس اقدام کو مسترد کرتی ہے جس سے ریاستوں کی خود مختاری، ان کی حدود اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچے۔ سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ منصفانہ اور جامع امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر قبضہ ختم کرنا اور سنہ 1967 کی حدود پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی قدس ہو۔