تہران نے امریکہ کو عبوری معاہدے کی پیشکش کی تردید کر دی ... مذاکرات پر قائم رہنے کی تصدیق

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی حملے کو، خواہ وہ محدود ضربوں کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، "جارحیت" تصور کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے ساتھ ایک عبوری معاہدے کے ضمن میں ایران کی جانب سے رعایتیں دینے کی خبروں کے بعد، ایرانی وزارت خارجہ نے اس معاملے کی مکمل طور پر تردید کر دی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "امریکہ کے ساتھ عبوری معاہدے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک سفارتی راستے پر گامزن ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا مقصد دوسرے فریق پر مطالبات مسلط کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مذاکرات کے دوران کسی نتیجے پر پہنچنے کی امید ظاہر کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بات چیت کے دوران مطالبات مسلط کرنے پر اصرار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

مزید برآں ترجمان نے اشارہ کیا کہ ایران "ہتھیار ڈالنے کے معنی نہیں جانتا اور اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی سمجھتا ہے"۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ سیف گارڈز معاہدے کے تحت تعاون کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی حملے کو، خواہ وہ محدود ضربوں کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، "جارحیت" تصور کریں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایک ایرانی عہدیدار نے گذشتہ اتوار کو اشارہ دیا تھا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس شرط پر نئی رعایتیں پیش کی ہیں کہ معاہدے میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور پرامن مقاصد کے لیے "یورینیم کی افزودگی" کے حق کو تسلیم کرنا شامل ہو۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی فریق ملک کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے نصف ذخیرے کو بیرون ملک بھیجنے، بقیہ نصف کی شدت کوکم کرنے اور افزودگی کے لیے ایک علاقائی اتحاد بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران یہ سب کچھ اس صورت میں کرے گا جب امریکہ ایک ایسے معاہدے کے تحت ایران کے "پُر امن جوہری افزودگی" کے حق کو تسلیم کرے جس میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہو۔

یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ روز 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں کہا کہ مذاکرات کے حالیہ ادوار کے "حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں"۔ تاہم انہوں نے کسی بھی "ممکنہ منظرنامے" کے لیے تہران کی تیاری کا بھی ذکر کیا۔

دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ صدر یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ ایران نے اب تک "ہتھیار کیوں نہیں ڈالے" اور وہ اپنے جوہری پروگرام کو روکنے پر کیوں راضی نہیں ہوا۔ اس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 'ایکس' پر جواب دیتے ہوئے کہا: "آپ حیران ہیں کہ ہم ہتھیار کیوں نہیں ڈالتے؟ اس لیے کہ ہم ایرانی ہیں"۔ تاہم، انہوں نے سی بی ایس نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنا اب بھی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق، بالواسطہ مذاکرات کا ایک نیا دور آئندہ جمعرات کو جنیوا میں منعقد ہونا متوقع ہے، جس میں ان کا ملک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں