ایرانی فوج کی طرف سے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر کیا گیا ڈرون حملہ قابل مذمت ہے۔ اس امر کا اظہار سعودی عرب کی طرف سے منگل کے جاری کیے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو اس ایرانی ڈرون حملے سے بہت
معمولی نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان سفارت خانے کی بلڈنگ میں بھڑکنے والی آگ سے ہوا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ڈرون حملے سے بھڑکنے والی آگ معمولی نوعیت کی تھی۔
ایران کی طرف سے سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی اس کوشش کو مملکت کی طرف سے مسترد کیا گیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں اس واقعے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے امریکی سفارتخانہ کی عمارت کو نشانہ بنانا سخت تشویشناک ہے۔
جاری کیے گئے بیان میں حملے کو بزدلانہ اور بلا جواز قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی اور جنیوا اور ویانا کنونشن کے منافی ہے ۔ جن کے تحت سفارتی مشن اور سفارتکاروں کو تحفظ حاصل ہے۔
بیان میں ایران کو انتباہ کیا گیا ہے کہ اس کا یہ کھلے جارحیت پر مبنی رویہ پورے خطے کو کشیدگی میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے بھی قابل مذمت ہے کہ ایران جانتا ہے کہ مملکت نے اسے یہ یقین دلا رکھا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو اس کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
بیان میں سرودی وزارت خارجہ نے مملکت کی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کا حق استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ملکی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور وسیع تر مفاد کا تحفظ کرنا مملکت کی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے ہفتہ کے روز سے امریکہ و اسرائیل نے ایران پر جن جنگی حملوں کا آغاز کیا ہے اس سے ایران میں غیر معمولی تباہی کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ایران نے اپنے پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطابق علاقے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مشنوں اور عمارتوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ریاض میں امریکی سفارتخانے کے علاوہ قطر میں امریکی فوجی اڈے، کویت میں امریکی مشنز اور فوجی موجودگی کے ساتھ ساتھ ابو ظہبی اور متحدہ عرب امارات میں بھی ایرانی افواج حملے کر رہی ہیں تاکہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
-
ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرونز سے حملہ، سعودی دفاعی نظام سے دشمن کی کوشش ناکام
سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا ہے کہ ابتدائی ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب : ولی عہد کا روسی صدر پیوٹن سے ایرانی حملوں پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز روسی صدر پیوٹن کے ساتھ فون ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب نے ریاض اور الخرج کے قریب آٹھ ڈرونز روک کر تباہ کر دیے
سعودی وزارتِ دفاع نے منگل کو بتایا کہ ریاض اور الخرج شہروں کے قریب آٹھ ڈرونز روک ...
مشرق وسطی