ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی ڈرون حملہ قابل مذمت ہے : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی فوج کی طرف سے سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے پر کیا گیا ڈرون حملہ قابل مذمت ہے۔ اس امر کا اظہار سعودی عرب کی طرف سے منگل کے جاری کیے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو اس ایرانی ڈرون حملے سے بہت
معمولی نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان سفارت خانے کی بلڈنگ میں بھڑکنے والی آگ سے ہوا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ڈرون حملے سے بھڑکنے والی آگ معمولی نوعیت کی تھی۔

ایران کی طرف سے سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی اس کوشش کو مملکت کی طرف سے مسترد کیا گیا ہے۔ جاری کردہ بیان میں اس واقعے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے امریکی سفارتخانہ کی عمارت کو نشانہ بنانا سخت تشویشناک ہے۔

جاری کیے گئے بیان میں حملے کو بزدلانہ اور بلا جواز قرار دیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام بین الاقوامی اقدار کی خلاف ورزی اور جنیوا اور ویانا کنونشن کے منافی ہے ۔ جن کے تحت سفارتی مشن اور سفارتکاروں کو تحفظ حاصل ہے۔

بیان میں ایران کو انتباہ کیا گیا ہے کہ اس کا یہ کھلے جارحیت پر مبنی رویہ پورے خطے کو کشیدگی میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس لیے بھی قابل مذمت ہے کہ ایران جانتا ہے کہ مملکت نے اسے یہ یقین دلا رکھا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو اس کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

بیان میں سرودی وزارت خارجہ نے مملکت کی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات کا حق استعمال کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ملکی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور وسیع تر مفاد کا تحفظ کرنا مملکت کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے ہفتہ کے روز سے امریکہ و اسرائیل نے ایران پر جن جنگی حملوں کا آغاز کیا ہے اس سے ایران میں غیر معمولی تباہی کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ایران نے اپنے پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطابق علاقے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مشنوں اور عمارتوں کو میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ریاض میں امریکی سفارتخانے کے علاوہ قطر میں امریکی فوجی اڈے، کویت میں امریکی مشنز اور فوجی موجودگی کے ساتھ ساتھ ابو ظہبی اور متحدہ عرب امارات میں بھی ایرانی افواج حملے کر رہی ہیں تاکہ امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں