سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز روسی صدر پیوٹن کے ساتھ فون پر بات کی ہے اور اس گفتگو کے دوران سعودی عرب پر کیے گئے ایرانی حملوں کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' کے مطابق ایرانی حملوں میں برادر ملک سعودی عرب کو نشانہ بنا کر حملے کیے گئے۔
ولی عہد اور صدر پیوٹن کے درمیان ہونے والی اس فون کال کو بعدازاں 'کریملن' کی طرف سے بھی ایک بیان میں جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق دونوں طرف سے مشرق وسطیٰ میں صورتحال کو کافی سنجیدہ تشویش کا مؤجب قرار دیا گا کہ خطے میں تصادم کے حقیقی خطرات پھیلے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ہی کئی عرب ملکوں کی سرزمین تباہی کے اثرات سے گزر رہی ہے۔
ایک اور فون کال پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اس بات چیت کا موضوع بھی مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال رہی۔
وزرائے خارجہ نے کہا روس اور سعودی عرب دونوں جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہر طرح کی دشمنی و کشیدگی کو روکنے پر زور دیتے ہیں۔ تاکہ عام شہریوں کے خلاف حملے کیے جانے کا سد باب ہوسکے۔
نیز ایران اور پڑوسی ملکوں میں شہری انفراسٹرکچر نشانہ بننے سے محفوظ رہ سکے۔ یہ بات روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔