امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے حق میں ایک اختیاری جنگ میں حصہ لیا ہے۔
عراقچی نے منگل کو ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی اور ایرانی خون بہانے کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو اسرائیل کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
Mr. Rubio admitted what we all knew: U.S. has entered a war of choice on behalf of Israel. There was never any so-called Iranian "threat".
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 3, 2026
Shedding of both American and Iranian blood is thus on Israel Firsters.
American people deserve better and should take back their country.
انہوں نے مزید کہا کہ روبیو نے وہ بات تسلیم کر لی ،جو سب جانتے تھے، یعنی امریکہ نے اسرائیل کے حق میں ایک اختیاری جنگ شروع کی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی خطرے کا کبھی وجود نہیں تھا۔اسی کے ساتھ عراقچی نے وہی پیغام بھی دیا جو چند دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو دیا تھا اور لکھا: امریکی عوام بہتر کے مستحق ہیں اور انہیں اپنا ملک واپس لینا چاہیے۔
پیشگی حملہ
روبیو نے اعلان کیا کہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز ایران پر ایک پیشگی حملہ کیا، جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی حلیف اسرائیل ایک حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، جس سے امریکی افواج پر انتقامی کارروائی کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے سینئر کمانڈروں کو ہدایت دی تھی کہ اگر اسرائیل حملہ کرے تو فوراً امریکی افواج کو نشانہ بنایا جائے۔
جب روبیو سے سوال کیا گیا کہ آیا امریکہ کو فوری ایرانی خطرہ لاحق تھا،جو امریکی دستور کے تحت کانگریس کے لیے جنگ کا اعلان کرنے میں اہمیت رکھتا ہے،تو انہوں نے دوبارہ اسرائیلی منصوبوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا: واقعی ایک فوری خطرہ موجود تھا اور وہ خطرہ اس علم میں تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا، جیسا کہ ہمیں توقع تھی، تو وہ فوراً جوابی حملہ کریں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب متوقع طور پر روبیو کانگریس میں سینئر قانون سازوں کو ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔
یہ بیان تب سامنے آیا جب کل پیر کو ٹرمپ نے ایران پر ایک وسیع اور طویل مدتی جنگ شروع کرنے کی ضرورت کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔
امریکی صدر جو فلوریڈا میں ہفتہ وار تعطیلات کے بعد وائٹ ہاؤس واپس آئے اور یہ جنگ کے بعد ان کا پہلی بار عوامی منظر پر ظہور تھا،انھوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے جو گزشتہ ہفتے ہفتہ سے شروع ہوئے، امکان ہے کہ چار سے پانچ ہفتے جاری رہیں اور شاید اس سے زیادہ بھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے اپنے شیڈول کی توقعات سے پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی کہا کہ اگر اس میں زیادہ وقت لگے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ 28 فروری کو اچانک اسرائیل کے اعلان کے ذریعے بھڑکی تھی۔ تاہم بعد میں اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس کارروائی کی تیاری امریکی حکام کے ساتھ کئی ہفتے پہلے کی گئی تھی۔